Surah Al Furqan Ayat 1 (25:1)
The Criterion · Juz 18 · Makki
تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاﰳ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ (اللہ ) بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پرقرآن نازل فرمایا تا کہ وہ تمام جہان والوں کو ڈر سُنانے والا ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر جو سارے جہان کو ڈر سُنانے والا ہو۔
Tafseer (Urdu)
{تبرك: وہ (اللہ) بڑی برکت والا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے خاص بندے اور اپنے حبیب انبیاء کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر حق اور باطل کے درمیان فرق کر دینے والا قرآن نازل فرمایا تا کہ وہ ا س کے ذریعے تمام جہان والوں کو اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے پر اس کے عذاب کا ڈر سنانے والے ہوں ۔( روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۱ ۶ / ۱۸۷-۱۸۸) {لیكون للعلمین نذیرا: تا کہ وہ تمام جہان والوں کو ڈر سنانے والا ہو۔} ایت کے ا س حصے میں حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت عام ہونے کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئےخواہ جن ہوں یا بشر فرشتے ہوں یا دیگر مخلوقات سب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے امتی ہیں کیونکہ اللہ تعالی کے سوا ہر چیز کو عالم کہتے ہیں اور اس میں یہ سب داخل ہیں ۔ نیز مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ارسلت الی الخلق کافۃ ‘‘ یعنی میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔( مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ص۲۶۶ الحدیث: ۵(۵۲۳)) علامہ علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی تمام موجودات کی طرف (رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں خواہ) جن ہوں یا انسان یا فرشتے یا حیوانات یا جمادات۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح کتاب الفضائل باب فضائل سید المرسلین صلوات اللہ و سلامہ علیہ الفصل الاول ۱۰ / ۱۴ تحت الحدیث: ۵۷۴۸)