Surah Al Furqan Ayat 11 (25:11)
The Criterion · Juz 18 · Makki
بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًا 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ انہوں نے قیامت کو جھٹلایا ہے اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے تیار کر رکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ۔
Tafseer (Urdu)
{بل: بلکہ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کافروں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخیاں ہی نہیں کیں بلکہ انہوں نے قیامت کو بھی جھٹلایا ہے اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔(مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۱۱ ص۷۹۶ ملخصا) {اذا راتهم من مكانۭ بعید: جب وہ اگ انہیں دور کی جگہ سے دیکھے گی۔} ارشاد فرمایا کہ جب وہ بھڑکتی ہوئی اگ انہیں دور کی جگہ سے دیکھے گی تو اس قدر جوش مارے گی کہ کافر اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔ دور کی جگہ سے مراد ایک برس کی راہ ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک سو برس کی راہ مراد ہے اور آگ کا دیکھنا کچھ بعید نہیں اللہ تعالی چاہے تو اس کو حیات عقل اور دیکھنے کی صلاحیت عطا فرمادے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ا س سے جہنم میں مامور فرشتوں کا دیکھنا مراد ہے۔( خازن الفرقان تحت الایۃ: ۱۲ ۳ / ۳۶۷) {و اذا القوا: اور جب انہیں ڈالا جائے گا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ان کفار کو اس اگ کی کسی تنگ جگہ میں جوانتہائی کرب و بے چینی پیدا کرنے والی ہو زنجیروں میں جکڑکر اس طرح ڈالا جائے گا کہ ان کے ہاتھ گردنوں سے ملا کر باندھ دیئے گئے ہوں یا اس طرح کہ ہرہر کافر اپنے اپنے شیطان کے ساتھ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو تو وہ وہاں موت مانگیں گے اور ’’واثبوراہ واثبوراہ‘‘ یعنی ہائے! اے موت آجا کا شور مچائیں گے اور اس وقت ان سے فرمایا جائے گا:آج ایک موت نہ مانگو اور بہت سی موتیں مانگو کیونکہ تم طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کئے جاؤ گے۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۱۳-۱۴ ص۷۹۶-۷۹۷) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سب سے پہلے جس شخص کو آتشی لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے اور اس کی ذریت اس کے پیچھے ہوگی اور یہ سب موت موت پکارتے ہوں گے۔‘‘ ان سے کہا جائے گا: ’’آج ایک موت نہ مانگو بلکہ بہت سی موتیں مانگو۔‘‘( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب ذکر النار ما ذکر فیما اعد لاہل النار وشدتہ ۸ / ۹۹ الحدیث: ۵۲)