Surah Al Furqan Ayat 21 (25:21)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓىٕكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَاؕ-لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے انہوں نے کہا: ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے گئے ؟ یا ہم اپنے رب کو کیوں نہیں دیکھتے؟ بیشک انہوں نے اپنے دلوں میں تکبر کیا ہے اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے وہ لوگ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے ہم پر فرشتے کیوں نہ اُتارے یا ہم اپنے رب کو دیکھتے بیشک اپنے جی میں بہت ہی اُونچی کھینچی اور بڑی سرکشی پر آئے۔
Tafseer (Urdu)
{و قال الذین لا یرجون لقآءنا: اورجو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے انہوں نے کہا۔} اس ایت سے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کا انکار کرنے والوں کے مزید اعتراضات ذکر کر کے ا ن کا رد کیا گیا ہے۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے ’’کفار جو کہ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر نشر کو نہیں مانتے اسی لئے وہ قیامت کے دن والی ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے رسول بنا کر یارسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کی نبوت و رسالت کے گواہ بنا کر ہم پر فرشتے کیوں نہ اتارے گئے یا ہم اپنے رب عزوجل کو کیوں نہیں دیکھتے جو ہمیں خود بتا دے کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے رسول ہیں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ بیشک انہوں نے اپنے دلوں میں تکبر کیا اور ان کا تکبر انتہا کو پہنچ گیا ہے اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کی اور وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے ہیں کہ معجزات کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی فرشتوں کے اپنے اوپر اترنے اور اللہ تعالی کو دیکھنے کا سوال کر رہے ہیں۔(ابوسعود الفرقان تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۱۲۹ روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۲۱ ۶ / ۱۹۹-۲۰۰ ملتقطا)