Surah Al Furqan Ayat 22 (25:22)
The Criterion · Juz 19 · Makki
یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓىٕكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَىٕذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیاد کروجس دن لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے تواس دن مجرموں کے لئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی اوروہ کہیں گے: (یا اللہ ! ہمارے درمیان) کوئی روکی ہوئی آڑ کردے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس دن فرشتوں کو دیکھیں گے وہ دن مجرموں کی کوئی خوشی کا نہ ہوگا اور کہیں گے الٰہی ہم میں ان میں کوئی آڑ کردے رُکی ہوئی۔
Tafseer (Urdu)
{یوم یرون الملىكة: یاد کروجس دن لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے۔} یعنی لوگ اپنی موت کے وقت روح نکالنے والے فرشتوں کو اس حال میں دیکھیں گے یا قیامت کے دن عذاب دینے پر مامور فرشتوں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ وہ ان سے کہہ رہے ہوں گے’’اس دن مجرموں کیلئے کوئی خوشخبری نہ ہوگی۔( بیضاوی الفرقان تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۲۱۳ جلالین مع صاوی الفرقان تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۱۴۳۲ ملتقطا) یاد رہے کہ اس ایت میں مجرموں سے مرادکفار ہیں مومنین کو قیامت کے دن جنت کی بشارت سنائی جائے گیجیساکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’یوم ترى المؤمنین و المؤمنت یسعى نورهم بین ایدیهم و بایمانهم بشرىكم الیوم جنت تجری من تحتها الانهر خلدین فیها-ذلك هو الفوز العظیم‘‘( حدید:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن تم مومن مردوں اورایمان والی عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑرہا ہے (فرمایا جائے گا کہ) آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں تم ان میں ہمیشہ رہو یہی بڑی کامیابی ہے۔ {و یقولون: اوروہ کہیں گے۔} ا س ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قیامت کے دن کفار جب فرشتوں کو دیکھیں گے تو وہ فرشتوں سے پناہ چاہتے ہوئے کہیں گے:اے اللہ! عزوجل ہمارے اور ان فرشتوں کے درمیان کوئی روکی ہوئی آڑ کردے۔(روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۲۲ ۶ / ۲۰۱) دوسری تفسیر یہ ہےحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا: ’’فرشتے (ان کفار سے) کہیں گے کہ مومن کے سوا کسی کے لئے جنت میں داخل ہونا حلال نہیں ۔ (تو کافروں اور جنت کے درمیان روکی ہوئی اڑ ہے۔)( خازن الفرقان تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۳۷۰) اسی لئے وہ دن کفار کے لئے انتہائی حسرت و ندامت اور رنج وغم کا دن ہوگا۔