Surah Al Furqan Ayat 23 (25:23)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو کچھ انہوں نے کام کیے تھے ہم نے قصد فرماکر انہیں باریک باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذرّے کردیا کہ روزن کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فجعلنه هبآء منثورا: تو ہم اسے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح بنادیں گے۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار نے کفر کی حالت میں جو کوئی ظاہری اچھے عمل کیے ہوں گے جیسے صدقہ صلہ رحمی مہمان نوازی اور یتیموں کی پرورش وغیرہ اللہ تعالی ان کی طرف قصد کرکے روشندان کی دھوپ میں نظر انے والے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح انہیں بے وقعت بنادے گا۔ مراد یہ ہے کہ وہ اعمال باطل کردیئے جائیں گے ان کا کچھ ثمرہ اور کوئی فائدہ نہ ہو گاکیونکہ اعمال کی مقبولیت کے لئے ایمان شرط ہے اور وہ انہیں میسر نہ تھا۔( جلالین الفرقان تحت الایۃ: ۲۳ ص۳۰۴-۳۰۵ ملخصا) قیامت کے دن کچھ مسلمانوں کے اعمال بے وقعت کر دئیے جائیں گے: اس ایت میں قیامت کے دن کفار کے اعمال باطل ہونے کا ذکرکیا گیا ہے جبکہ احادیث میں بعض ایسے مومنین کا ذکر بھی کیا گیا ہے جن کے اعمال قیامت کے دن بے وقعت کر دئیے جائیں گے۔ چنانچہ اس سلسلے میں یہاں دو احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جانتا ہوں کہ جب وہ قیامت کے دن ائیں گے تو ان کی نیکیاں تہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی لیکن اللہ تعالی انہیں روشندان سے نظر انے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گا۔حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے سامنے ان لوگوں کا صاف صاف حال بیان فرما دیجئے تاکہ ہم جانتے ہوئے ان لوگوں میں شریک نہ ہو جائیں ۔سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’وہ تمہارے بھائی تمہارے ہم قوم ہوں گے راتوں کو تمہاری طرح عبادت کیا کریں گے لیکن وہ لوگ تنہائی میں برے افعال کے مرتکب ہوں گے۔( ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر الذنوب ۴ / ۴۸۹ الحدیث: ۴۳۴۵) (2)…حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ازاد کردہ غلام حضرت سالم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ائیں گے کہ ان کے پاس تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں ہو ں گییہاں تک کہ جب انہیں لایا جائے گا تو اللہ تعالی ان کے اعمال کو روشندان سے نظر انے والے غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) کر دے گاپھر انہیں جہنم میں ڈال دے گا۔ حضرت سالم نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرے ماں باپ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر قربان ہو جائیں ! ہمیں ان لوگوں کا حال بتا دیجئے ارشاد فرمایا:’’وہ لوگ نماز پڑھتے ہوں گے روزے رکھتے ہوں گے نیند سے بیدار ہو کر راتوں کو قیام کرتے ہوں گے لیکن جب ان کے سامنے کوئی حرام چیز پیش کی جائے تو وہ اس پر کود پڑتے ہوں گے تو اللہ تعالی ان کے اعمال باطل فرما دے گا۔( حلیۃ الاولیاء ذکر الصحابۃ من المہاجرین سالم مولی ابی حذیفۃ ۱ / ۲۳۳ الحدیث: ۵۷۵) اللہ تعالی ہمیں اپنی اصلاح کرنے اور قیامت کے دن اعمال باطل ہوجانے والوں میں شامل ہونے سے محفوظ فرمائےامین۔