Surah Al Furqan Ayat 28 (25:28)
The Criterion · Juz 19 · Makki
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوائے خرابی میری ہائے کسی طرح میں نے فلانے کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
Tafseer (Urdu)
{یویلتى: ہائے میری بربادی!} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر کہے گا: ’’ہائے میری بربادی! اے کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتاجس نے مجھے گمراہ کر دیا۔ بیشک اس نے اللہ تعالی کی طرف سے میرے پاس نصیحت اجانے کے بعد مجھے اس نصیحت یعنی قران اور ایمان سے بہکا دیا اور شیطان کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ انسان کو مصیبت کے وقت بے یارو مددگار چھوڑ دیتا ہے اور جب انسا ن پربلاو عذاب نازل ہوتا ہے تو اس وقت اس سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے۔( خازن الفرقان تحت الایۃ: ۲۸-۲۹ ۳ / ۳۷۱ ملخصا) بری صحبت اور دوستی سے بچنے کی ترغیب: اس سے معلوم ہو اکہ بد مذہبوں اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرناانہیں اپنا دوست بنانا اور ان سے محبت کرنادنیا اور اخرت میں انتہائی نقصان دہ ہے۔ احادیث میں بری صحبت اور دوستی سے بچنے کی بہت تاکید کی گئی ہے چنانچہ ترغیب کے لئے یہاں اس سے متعلق دو احادیث ملاحظہ ہوں (1)… حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’برے ہم نشین سے بچو کہ تم اسی کے ساتھ پہچانے جاو گے۔( ابن عساکر ذکر من اسمہ الحسین حرف الجیم فی اباء من اسمہ الحسین الحسین بن جعفر بن محمد ۔۔۔ الخ ۱۴ / ۴۶) یعنی جیسے لوگوں کے پاس ادمی کی نشست وبرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں ۔ (2)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں : فاجر سے بھائی بندی نہ کر کہ وہ اپنے فعل کو تیرے لیے مزین کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تو بھی اس جیسا ہوجائے اور اپنی بدترین خصلت کو اچھا کرکے دکھائے گا تیرے پاس اس کا آنا جانا عیب اور ننگ ہے اور احمق سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ وہ تیرے لئے خودکو مشقت میں ڈال دے گا اور تجھے کچھ نفع نہیں پہنچائے گااور کبھی یہ ہوگا کہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا مگر ہوگا یہ کہ نقصان پہنچادے گا اس کی خاموشی بولنے سے بہتر ہے اس کی دوری نزدیکی سے بہتر ہے اور موت زندگی سے بہتر ہے اورجھوٹے ادمی سے بھی بھائی چارہ نہ کر کہ اس کے ساتھ میل جول تجھے نفع نہ دے گی وہ تیری بات دوسروں تک پہنچائے گا اور دوسروں کی تیرے پاس لائے گا اور اگر تو سچ بولے گا جب بھی وہ سچ نہیں بولے گا۔( ابن عساکر حرف الطاء فی اباء من اسمہ علی علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ ۴۲ / ۵۱۶) فی زمانہ بعض نادان لوگ بد مذہبوں سے تعلقات قائم کرتے اور یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہلا نہیں سکتا ہم بہت ہی مضبوط ہیں ہم نے ان سے تعلق ا س لئے قائم رکھاہوا ہے تاکہ انہیں اپنے جیسا بنالیں یونہی بعض نادان تسکین نفس کی خاطر بد مذہب عورتوں سے نکاح کرتے اور یوں کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے نکاح اس لئے کیا ہے تاکہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیں اسی طرح کچھ نادان گھرانے ایسے بھی ہیں جو صرف دنیا کی اچھی تعلیم کی خاطر اپنے نونہالوں کو بد مذہب استادوں کے سپرد کردیتے ہیں اور بالاخر یہی بچے بڑے ہو کر بد مذہبی اختیار کر جاتے ہیں ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کے ا س کلام سے عبرت حاصل کریں چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :غیر مذہب والیوں (یا والوں ) کی صحبت اگ ہے ذی علم عاقل بالغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصہ مشہور ہے یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا خارجی مذہب کی عورت (سے شادی کرکے اس) کی صحبت میں (رہ کر) معاذاللہ خود خارجی ہو گیا اور یہ دعوی کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے) اسے سنی کرنا چاہتا ہے۔ جب صحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدث گمراہ ہو گیا) تو (بدمذہب کو) استاد بنانا کس درجہ بدتر ہے کہ استاد کا اثر بہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے تو غیر مذہب عورت (یا مرد) کی سپردگی یا شاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا جو اپ (خودہی) دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔( فتاوی رضویہعلم وتعلیم ۲۳ / ۶۹۲) اللہ تعالی ہمیں بدمذہبوں اور برے لوگوں سے دوستی رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے سے محفوظ فرمائے اور نیک و پرہیز گار لوگوں سے میل جول رکھنے اور ان کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ بے دین اور بدمذہب کی دوستی اور اس کے ساتھ صحبت و اختلاط اور الفت و احترام ممنوع ہے۔ اچھی صحبت اور دوستی اختیار کرنے کی ترغیب: ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور اپنا دوست بھی اچھے لوگوں کو ہی بنائے۔ کثیر احادیث میں اچھی صحبت اختیار کرنے اور اچھے ساتھیوں کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں ترغیب کے لئے یہاں ان میں سے 4احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کامل مومن کے علاوہ کسی کو ہم نشین نہ بناو اور تمہارا کھانا پرہیز گار ہی کھائے۔( ابوداود کتاب الادب باب من یومر ان یجالس ۴ / ۳۴۱ الحدیث: ۴۸۳۲) (2)…حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بڑوں کے پاس بیٹھا کرو علما ء سے باتیں پوچھا کرو اور حکمت والوں سے میل جول رکھو۔( معجم الکبیر سلمۃ بن کہیل عن ابی جحیفۃ ۲۲ / ۱۲۵ الحدیث: ۳۲۴) (3)…حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کون سا ساتھی اچھا ہےارشاد فرمایا’’اچھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے تو وہ تیری مدد کرے اور جب تو بھولے تو وہ یاد دلائے۔(رسائل ابن ابی الدنیا کتاب الاخوان باب من امر بصحبتہ ورغب فی اعتقاد مودتہ ۸ / ۱۶۱ الحدیث: ۴۲) (4)…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اچھا ہم نشین وہ ہے کہ اسے دیکھنے سے تمہیں خدایاد آئے اور اس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔( جامع صغیر حرف الخاء ص۲۴۷ الحدیث: ۴۰۶۳)