Surah Al Furqan Ayat 30 (25:30)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور رسول نے عرض کی: اے میرے رب!میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل بنا لیاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور رسول نے عرض کی کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑنے کے قابل ٹھہرالیا۔
Tafseer (Urdu)
{و قال الرسول: اور رسول نے عرض کی۔} جب کفار کے اعتراضات اور طعن و تشنیع حد سے زیادہ ہو گئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی: ’’ اے میرے رب! عزوجل میری قوم نے اس قرآن کو ایک چھوڑ دینے کے قابل چیز بنا لیاہے کہ کسی نے اس کو جادو کہا کسی نے شعر اور یہ لوگ قران مجید پر ایمان لانے سے محروم رہے۔( تفسیرکبیر الفرقان تحت الایۃ: ۳۰ ۸ / ۴۵۵ ملخصا) اس ایت میں چھوڑنے سے اصل مراد تواس پر ایمان نہ لانا ہے۔ لیکن چھوڑنے کی اس کے علاوہ بھی صورتیں ہیں لہذا قران مجید کے حوالے سے مسلمان کاحال ایسا نہیں ہونا چاہئے جس سے یہ لگے کہ اس نے قران مجید کو چھوڑ رکھا ہے بلکہ اسے چاہئے کہ روزانہ تلاوت قران کرے قران مجید کی ایات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور ان میں غورو تدبر کیاکرے نیز اللہ تعالی نے قران مجید میں جو احکامات دیئے ہیں ان پر عمل کرے اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے باز رہے تاکہ وہ قران مجید کو عملی طور پر چھوڑ رکھنے والے لوگوں میں شامل نہ ہو۔