Surah Al Furqan Ayat 31 (25:31)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَؕ-وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے اسی طرح ہر نبی کے لیے مجرم لوگوں کو دشمن بنادیا تھا اورہدایت دینے اور مدد کرنے کے لئے تمہارا رب کافی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن بنادیئے تھے مجرم لوگ اور تمہارا رب کافی ہے ہدایت کرنے اور مدد دینے کو۔
Tafseer (Urdu)
{و كذلك: اور اسی طرح۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مدد کا وعدہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ غم نہ کریں کیونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ بدنصیب کافروں کا یہی معمول رہا ہے تو جس طرح گزشتہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کفار کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر کرتے رہے اسی طرح اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی صبر فرمائیں اوراپ کی تسلی کیلئے یہی بات کافی ہے کہ دین ودنیا کی مصلحتوں کی طرف ہدایت دینے اور دشمنوں کے خلاف مدد کرنے کیلئے اپ کا رب عزوجل کافی ہے۔( تفسیرکبیر الفرقان تحت الایۃ: ۳۱ ۸ / ۴۵۵-۴۵۶ ملخصا) ازمائشیں مقبول بندوں کے درجات کی بلندی کا سبب ہیں : اس ایت سے اشارۃمعلوم ہوا کہ ہر نبی اور ولی کا کوئی دشمن ہو تاہے جس کے ذریعے اللہ تعالی انہیں ازمائش میں مبتلا فرماتا ہے اور ان کے شرف ومقام کو ظاہر فرماتا ہے۔ حضرت ابوبکر بن طاہر رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : دشمنوں اور مخالفت کرنے والوں کے ذریعے ازمائش میں مبتلا کر کے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃاللہ تعالی علیہم کے درجات بلند کئے جاتے ہیں ۔( روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۳۱ ۶ / ۲۰۸)