Surah Al Furqan Ayat 32 (25:32)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةًۚۛ-كَذٰلِكَۚۛ-لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کافروں نے کہا: ان پرسارا قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں اتار دیاگیا؟ (ہم نے) یونہی (اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا) تاکہ اس کے ساتھ ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کافر بولے قرآن ان پر ایک ساتھ کیوں نہ اتار دیا ہم نے یونہی بتدریج اسے اُ تارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مضبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔
Tafseer (Urdu)
{و قال الذین كفروا: اور کافروں نے کہا۔} تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے والے کفار مکہ نے کہا اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ گمان ہے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے پاس سارا قران ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں لے کر ائے جیسے تورات حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر انجیل حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر اور زبور حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی۔( تفسیرکبیر الفرقان تحت الایۃ: ۳۲ ۸ / ۴۵۷) کفار کا یہ اعتراض بالکل فضول اور مہمل ہے کیونکہ قرآن کریم کا عاجز کر دینے والا ہونا ہر حال میں یکساں ہے چاہے وہ ایک ہی مرتبہ نازل ہو یا تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہو۔( بیضاوی الفرقان تحت الایۃ: ۳۲۴ / ۲۱۶) بلکہ قران کریم تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونے میں اس کے معجزہ ہونے کی بڑی دلیل ہے کہ اس طرح ہر ایت کا مقابلہ کرنے سے کفار کا عاجز ہونا ظاہر ہو رہا ہے۔ {كذلك: یونہی۔} آیت کے اس حصے میں اللہ تعالی قران پاک کو بتدریج نازل فرمانے کی حکمت ظاہر کرتے ہوئے ارشادفرمارہا ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے یونہی اس قران کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیاتاکہ اس کے ساتھ ہم اپ کے دل کو مضبوط کریں اور پیام کا سلسلہ جاری رہنے سے آپ کے قلب مبارک کو تسکین ہوتی رہے اور کفار کو ہر ہر موقع پر جواب ملتے رہیں ۔ اس کے علاوہ یہ بھی فائدہ ہے کہ قران پاک کو حفظ کرنا سہل اور آسان ہو۔(مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۳۲ ص۸۰۱-۸۰۲ ملخصا) {و رتلنه ترتیلا: اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم نے قران پاک کو حضرت جبریل علیہ السلام کی زبان سے تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس برس کی مدت میں پڑھا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے ایک آیت کے بعد دوسری آیت بتدریج نازل فرمائی اور بعض مفسرین نے کہا کہ اس ایت میں اللہ تعالی نے ہمیں قرا ء ت میں ترتیل کرنے یعنی ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ پڑھنے اور قرآن شریف کو اچھی طرح ادا کرنے کا حکم فرمایا جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہوا: ’’و رتل القران ترتیلا‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔( ابوسعود الفرقان تحت الایۃ: ۳۲ ۴ / ۱۳۵)