Surah Al Furqan Ayat 41 (25:41)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًاؕ-اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو ٹھٹھا مذاق بنالیتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) کیا یہ وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہیں نہیں ٹھہراتے مگر ٹھٹھا کیا یہ ہیں جن کو اللہ نے رسول بناکر بھیجا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا راوك: اور جب اپ کو دیکھتے ہیں ۔} ارشاد فرمایاکہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جن مشرکین کے سامنے اپ نے سابقہ قوموں کے واقعات بیان فرمائے ہیں یہ جب اپ کو دیکھتے ہیں تو اپ کو ٹھٹھا مذاق بنالیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی مخلوق میں سے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے( تفسیرطبری الفرقان تحت الایۃ: ۴۱ ۹ / ۳۹۲) {ان كاد: قریب تھا۔} اس ایت میں ارشاد فرمایا کہ وہ مشرکین مزید یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے ان معبودوں پر ڈٹے نہ رہتے اور ان کی عبادت پر ثابت قدم نہ رہتے تو قریب تھا یہ نبی ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکادیتے۔( تفسیرطبری الفرقان تحت الایۃ: ۴۲ ۹ / ۳۹۳) اس سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی دعوت اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اظہار معجزات نے کفار پر اتنا اثر کیا تھا اور دین حق کو اس قدر واضح کردیا تھا کہ خود کفار کو اقرار ہے کہ اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر جمے نہ رہتے تو قریب تھا کہ بت پرستی چھوڑ دیں اور دین اسلام اختیار کریں ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دین اسلام کی حقانیت ان پر خوب واضح ہوچکی تھی اور شکوک و شبہات مٹا ڈالے گئے تھے لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے محروم رہے۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۴۲ ص۸۰۴) {و سوف یعلمون: اور عنقریب یہ جان لیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ عنقریب جب یہ لوگ اخرت کاعذاب دیکھیں گے تو اس وقت جان لیں گے کہ کون گمراہ تھا۔یہ کفار کی اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے کہی تھی کہ قریب ہے کہ یہ ہمیں ہمارے خداؤں سے بہکادیں ۔ یہاں بتایا گیا کہ بہکے ہوئے تم خود ہو اورآخرت میں یہ تمہیں خود ہی معلوم ہوجائے گا اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف تم نے جو بہکانے کی نسبت کی ہے وہ محض بے جا ہے۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۴۲ ص۸۰۴)