Surah Al Furqan Ayat 40 (25:40)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِؕ-اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَاۚ-بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا 40
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوربیشک یہ اس بستی پر ہو آئے ہیں جس پر بری بارش کی گئی تو کیا یہ اس بستی کو نہیں دیکھتے تھے بلکہ یہ مرنے کے بعد اٹھنے کی امید نہیں رکھتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ضرور یہ ہو آئے ہیں اس بستی پر جس پر برا برساؤ برسا تھا تو کیا یہ اسے دیکھتے نہ تھے بلکہ انہیں جی اٹھنے کی امید تھی ہی نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد اتوا: اور ضرور یہ ہو آئے ہیں ۔} یعنی کفارمکہ شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں بار بار اس بستی سے گزر چکے ہیں جس پر پتھروں کی بری بارش کی گئی تھی توکیا کفار مکہ سفر کے دوران اس بستی کو اپنی انکھوں سے نہیں دیکھتے تھے تاکہ ان کے انجام سے عبرت پکڑ تے اور ایمان لاتے بلکہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے قائل ہی نہیں کہ انہیں آخرت کے ثواب و عذاب کی کوئی پروا ہ ہوتیتو پھر ہلاکت کے اثار دیکھ کر یہ کس طرح عبرت حاصل کرتے اور ایمان لاتے۔ اس ایت میں جس بستی پر پتھروں کی بارش ہونے کا ذکر ہوا اس سے مراد ’’سدوم ‘‘ نامی بستی ہے جو کہ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی پانچ بستیوں میں سب سے بڑی بستی تھی۔ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی بستیوں کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ پانچوں بستیوں کو ہلاک کر دیاگیا اور ایک قول یہ ہے کہ ان بستیوں میں سب سے چھوٹی بستی کے لوگ تو اس خبیث بدکاری کے عامل نہ تھے جس میں باقی چار بستیوں کے لوگ مبتلا تھے اس لئے انہوں نے تونجات پائی جبکہ بقیہ چار بستیاں اپنی بدعملی کے باعث آسمان سے پتھر برسا کر ہلاک کردی گئیں ۔ حقیقت میں چار یا پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں لیکن یہاں صرف ایک کا ذکر اس لئے ہے کہ کفار مکہ کا تجارتی سفروں کے درمیان جس بستی سے گزر ہوتا تھا وہ یہی تھی۔