Surah Al Furqan Ayat 45 (25:45)
The Criterion · Juz 19 · Makki
اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ-وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًاۚ-ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًا 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے حبیب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ اس نے سائے کو کیسا دراز کیا؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنادیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے محبوب کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا یاسایہ اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر الى ربك: اے محبوب!کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا اپ نے اپنے رب عزوجل کو نہ دیکھا کہ اس کی صنعت و قدرت کیسی عجیب ہے اس نے سائے کو صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک کیسا دراز کیا کہ اس وقت ساری روئے زمین میں سایہ ہی سایہ ہوتا ہے نہ دھوپ ہے نہ اندھیرا ہے اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو سائے کو ایک ہی حالت پر ٹھہرا ہوا بنادیتا کہ سورج طلوع ہونے سے بھی سایہ زائل نہ ہوتا۔پھر ہم نے سورج کو سائے پر دلیل بنایا کیونکہ اگرسورج نہ ہو تو سائے کا پتہ ہی نہ چلے۔پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیا کہ طلوع کے بعد سورج جتنا اونچا ہوتا گیا اتنا ہی سایہ سمٹتا گیا۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۴۵-۴۶ ص۸۰۴-۸۰۵) اشیاء کی طبعی تاثیریں بھی اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء کی طبعی تاثیریں بھی اللہ تعالی کی مشیت کے تابع ہیں اگ کا جلانا پانی کا پیاس بجھانا ثقیل بدن کا سایہ بننا سورج کا سایہ اٹھادینا سب اللہ تعالی کی مشیت سے ہے اگر اللہ عزوجل چاہے تو یہ تاثیریں ختم ہو جائیں۔