Surah Al Furqan Ayat 68 (25:68)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًا 68
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام فرمایا ہے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے گاوہ سزا پائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین: اور وہ جو۔} کامل ایمان والوں کے بارے میں ارشاد فرمایاگیا کہ وہ فضیلت والے اعمال سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ قبیح اور برے کاموں سے بھی بچتے ہیں جیسے وہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت نہیں کرتے شرک سے بری اور بیزار ہیں اور وہ اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے قتل کرنے کو اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے اورا س کا خون مباح نہیں کیا جیسے کہ مومن اور معاہدہ کرنے والا کافر یونہی وہ بدکاری نہیں کرتے اورجو شخص بھی ان کاموں میں سے کوئی کام کرے گا تو وہ اس کی سزا پائے گا۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۶۸ ص۸۱۰-۸۱۱ روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۶۸ ۶ / ۲۴۶-۲۴۷ ملتقطا) بڑے بڑے تین گناہ : یاد رہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرناکسی جان کو ناحق قتل کرنا اور زنا کرنا بہت بڑے گنا ہ ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سوال کیا’’ کونسا گناہ سب میں بڑا ہے ارشادفرمایا ’’یہ کہ تو اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک کرے حالانکہ تجھے اس نے پیدا کیا۔ میں نے عرض کی: پھر اس کے بعد کونسا گناہ ارشادفرمایا ’’یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس لیے قتل کرڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔میں نے عرض کی: پھر کونسا ارشادفرمایا ’’یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرے۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تصدیق میں یہ ایت ’’و الذین لا یدعون مع الله الها اخر‘‘ نازل فرمائی۔(بخاری کتاب الادب باب قتل الولد خشیۃ ان یاکل معہ ۴ / ۱۰۰ الحدیث: ۶۰۰۱) اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب بیعت لیتے تو بطور خاص یہ تین گناہ یعنی شرککسی کو ناحق قتل اورزنا نہ کرنے پر بیعت لیا کرتے تھےچنانچہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں تھے تو اپ نے ارشاد فرمایا’’تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراو گےزنا نہیں کرو گےچوری نہیں کرو گے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کروگے جسے قتل کرنا اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے۔تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پور اکیا ا س کا اجر اللہ تعالی کے ذمہ کرم پر ہے اور جس نے ان حرام کردہ چیزوں میں سے کسی کا ارتکاب کر لیا اور اسے (دنیا میں ہی اس کی شرعی) سزادے دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے اور جس نے ان میں سے کسی حرام کام کو کیا اور اللہ تعالی نے (دنیا میں ) ا س کا پردہ رکھا تو (اخرت میں) اس کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہےاگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔( مسلم کتاب الحدود باب الحدود کفارات لاہلہا ص۹۳۹ الحدیث: ۴۱(۱۷۰۹))