Surah Al Furqan Ayat 69 (25:69)
The Criterion · Juz 19 · Makki
یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًا 69
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس کے لئے قیامت کے دن عذاب بڑھادیا جائے گا اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا۔
Tafseer (Urdu)
{یضعف: بڑھادیا جائے گا۔} یعنی جو شخص شرک کے ساتھ ساتھ ناحق قتل کرنے اور زناکاری وغیرہ گناہوں کا مرتکب ہو گا تو وہ قیامت کے دن شرک کے عذاب میں گرفتار ہوگا اوراس کے ساتھ دیگر گناہوں کے عذاب میں بھی مبتلا ہو گا اور یوں اس کا عذاب بڑھادیاجائے گا اور وہ ہمیشہ اس دگنے عذاب میں ذلت سے رہے گا۔( تفسیرکبیر الفرقان تحت الایۃ: ۶۹ ۸ / ۴۸۴) { الا من تاب: مگر جو توبہ کرے۔} یعنی جو شخص شرکناحق قتل زنا اور دیگر کبیرہ گناہوں سے توبہ کرے اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لائے اورتوبہ کے بعد نیک کام کرے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالی نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے اور ا س کی بخشش و مہربانی کے اثار میں سے یہ ہے کہ وہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں ایمان لانے والوں اور توبہ وایمان کے بعد نیک عمل کرنے والواں کی برائیاں نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور نیک اعمال کرنے پر انہیں ثواب عطافرماتا ہے۔( روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۷۰ ۶ / ۲۴۷ مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۷۰ ص۸۱۱ ملتقطا) برائیوں کو نیکیوں سے بدل دینے کا معنی : مفسرین نے برائیوں کو نیکیوں سے بدل دینے کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں ان میں سے تین معنی درج ذیل ہیں (1)… اس کا معنی یہ ہے کہ برائی کرنے کے بعد اللہ تعالی اسے نیکی کرنے کی توفیق دید ے گا۔ (2)…اس کا یہ معنی ہے کہ برائیوں کو توبہ سے مٹا دے گااور ان کی جگہ ایمان و طاعت وغیرہ نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ (3)…اس کا یہ معنی ہے کہ ایت میں بیان گئے اوصاف سے متصف لوگوں سے حالت اسلام میں جو گناہ ہوئے ہوں گے انہیں قیامت کے دن اللہ تعالی نیکیوں سے بدل دے گا۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۷۰ ص۸۱۱ خازن الفرقان تحت الایۃ: ۷۰ ۳ / ۳۸۰ ملتقطا) اللہ تعالی کی بندہ نوازی اور شان کرم: صحیح مسلم میں حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں یقینا جانتا ہوں سب کے بعد جنت میں کون داخل ہو گا اور سب سے اخر میں جہنم سے کون نکلے گا۔ ایک شخص ایسا ہو گا جسے قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گااللہ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا ’’اس شخص کے صغیرہ گناہ ا س پر پیش کرو چنانچہ اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا’’تو نے فلاں دن فلاں فلاں کام کیا تھاوہ شخص اقرار کرے گا اور کہے گا’’میں اپنے اندر ان کاموں سے انکار کی سکت نہیں پاتا اور وہ ابھی اپنے کبیرہ گناہوں سے ڈر رہا ہو گا کہ ان کا حساب نہ شروع ہو جائے۔ اس شخص سے کہا جائے گا:جا تجھے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی دی جاتی ہے۔حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’یہ بیان فرماتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو (اللہ تعالی کی بندہ نوازی اور اس کی شان کرم پر) خوشی ہوئی اور چہرہ اقدس پر سرور سے تبسم کے آثار نمایاں ہوئے۔( مسلم کتاب الایمان باب ادنی اہل الجنۃ منزلۃ فیہا ص۱۱۹ الحدیث: ۳۱۴(۱۹۰))