Surah Al Furqan Ayat 72 (25:72)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا 72
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب بیہودہ پر گزرتے ہیں اپنی عزت سنبھالے گزر جاتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین لا یشهدون الزور: اور جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔} یعنی کامل ایمان والے گواہی دیتے ہوئے جھوٹ نہیں بولتے اور وہ جھوٹ بولنے والوں کی مجلس سے علیحدہ رہتے ہیں ان کے ساتھ میل جول نہیں رکھتے۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۷۲ ص۸۱۱) جھوٹی گواہی دینے کی مذمت پر 4احادیث: اس سے معلوم ہو اکہ جھوٹی گواہی نہ دینا اور جھوٹ بولنے سے تعلق نہ رکھنا کامل ایمان والوں کاوصف ہے۔ یاد رہے کہ جھوٹی گواہی دینا انتہائی مذموم عادت ہے اور کثیر احادیث میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے یہاں ان میں سے 4 احادیث ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ عزوجل کے ساتھ شریک کرنا۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ کسی کو ناحق قتل کرنا۔ اور جھوٹی گواہی دینا۔( بخاری کتاب الدیات باب قول اللہ تعالی: ومن احیاہا ۴ / ۳۵۸ الحدیث: ۶۸۷۱) (2)… حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالی اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔( ابن ماجہ کتاب الاحکام باب شہادۃ الزور ۳ / ۱۲۳ الحدیث: ۲۳۷۳) (3)…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مسلمان مردکا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اس نے (اپنے اوپر) جہنم (کا عذاب) واجب کر لیا۔( معجم الکبیر عکرمۃ عن ابن عباس ۱۱ / ۱۷۲ الحدیث: ۱۱۵۴۱) (4)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص لوگوں کے ساتھ یہ ظاہر کرتے ہوئے چلا کہ یہ بھی گواہ ہے حالانکہ یہ گواہ نہیں وہ بھی جھوٹے گواہ کے حکم میں ہے اور جو بغیر جانے ہوئے کسی کے مقدمہ کی پیروی کرے وہ اللہ تعالی کی ناخوشی میں ہے جب تک اس سے جدا نہ ہو جائے۔(سنن الکبری للبیہقی کتاب الوکالۃ باب اثم من خاصم او اعان فی خصومۃ بباطل ۶ / ۱۳۶ الحدیث: ۱۱۴۴۴) {و اذا مروا باللغو: اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں ۔} یعنی جب وہ کسی لغو اور باطل کام میں مصروف لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں ۔ اپنے اپ کو لہو و باطل سے ملوث نہیں ہونے دیتے اور ایسی مجالس سے اعراض کرتے ہیں ۔( مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۷۲ ص۸۱۱)