Surah Al Furqan Ayat 73 (25:73)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا 73
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ لوگ کہ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو ان پر بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ کہ جب کہ انہیں ان کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین: اور وہ لوگ۔} یعنی جب کامل ایمان والوں کو ان کے رب عزوجل کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر غفلت کے ساتھ بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرتے کہ نہ سوچیں نہ سمجھیں بلکہ ہوش وحواس قائم رکھتے ہوئے سنتے ہیں اورچشم بصیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں اور اس نصیحت سے ہدایت حاصل کرتے ہیں نفع اٹھاتے ہیں اور ان آیتوں میں دئیے گئے احکام پر عمل کرتے ہیں ۔( روح البیان الفرقان تحت الایۃ: ۷۳ ۶ / ۲۵۲ خازن الفرقان تحت الایۃ: ۷۳ ۳ / ۳۸۰ ملتقطا) قران مجید کی ایات کے ذریعے کی جانے والی نصیحت کیسے سننی چاہئے اس ایت سے معلوم ہوا کہ جب قران مجید کی ایات کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمتیں یاد دلائی جائیں اللہ تعالی کی طاعت و فرمانبرداری کرنے اوراس کی رضا حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے اور اس کی نافرمانی کرنے پر اس کے غضب وعذاب سے ڈرایا جائے یونہی جو کام کرنے کا اللہ تعالی نے حکم دیا ہے انہیں کرنے اور جن کاموں سے بچنے کا فرمایا ہے ان سے رک جانے پر ابھارا جائے تو ہر مسلمان کو چاہئے کہ ان چیزوں کو بے توجہی کے ساتھ نہ سنے بلکہ کامل توجہ کے ساتھ اور ہوش وحواس قائم رکھتے ہوئے سنے اور ان ایات کے ذریعے جو نصیحت کی گئی اس پر عمل کرے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’فبشر عباد(۱۷) الذین یستمعون القول فیتبعون احسنه-اولىك الذین هدىهم الله و اولىك هم اولوا الالباب‘‘(الزمر:۱۷ ۱۸) ترجمہ کنزالعرفان: تو میرے ان بندوں کو خوشخبری سنادو۔ جو کان لگا کر بات سنتے ہیں پھر اس کی بہتربات کی پیرویکرتے ہیں ۔ یہ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلمند ہیں ۔ اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائےامین۔