Surah Al Furqan Ayat 74 (25:74)
The Criterion · Juz 19 · Makki
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا 74
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمااور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دے ہماری بیبیوں اورہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین یقولون: اور وہ جو عرض کرتے ہیں ۔} یعنی کامل ایمان والے اللہ تعالی کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب!ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہمیں بیویاں اور اولاد نیک صالح متقی عطا فرما تاکہ ان کے اچھے عمل اور ان کی اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش ہوں ۔(مدارک الفرقان تحت الایۃ: ۷۴ ص۸۱۲) مومن کی انکھوں کی ٹھنڈک: اس سے معلوم ہوا کہ نیک اور پرہیز گار بیوی اوراولاد مومن کی انکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی خوشی کا باعث ہے۔نیک بیوی کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا متاع (یعنی فائدہ اٹھانے کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترمتاع نیک عورت ہے۔(مسلم کتاب الرضاع باب خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ ص۷۷۴ الحدیث: ۵۹(۱۴۶۷)) اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی سے ڈرنے کے بعد مومن کے لیے نیک بیو ی سے بہتر کوئی چیز نہیں ۔ اگر اسے حکم دیتا ہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اور اگر اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اور کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (یعنی اس کی عزت میں خیانت نہ کرے اور اس کا مال ضائع نہ کرے۔)(ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء ۲ / ۴۱۴ الحدیث: ۱۸۵۷) اور نیک اولاد کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب انسان مر جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں ۔(1)صدقہ جاریہ۔(2)وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا ہو۔(3)نیک بچہ جو اس کے لئے دعا کرے۔(مسلم کتاب الوصیۃ باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ص۸۸۶ الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱)) {و اجعلنا للمتقین اماما: اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔} یعنی ہمیں ایسا پرہیزگارعبادت گزار اور خدا پرست بنا کہ ہم پرہیزگاروں کی پیشوائی کے قابل ہوں اور وہ دینی امور میں ہماری اقتدا کریں ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس ایت میں دلیل ہے کہ آدمی کو دینی پیشوائی اور سرداری کی رغبت رکھنی اور طلب کرنی چاہئے۔(خازن الفرقان تحت الایۃ: ۷۴ ۳ / ۳۸۱) لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب مقصد اچھا ہو نہ یہ کہ حب دنیا اور حب جاہ کی وجہ سے ہو۔