Surah Ash Shura Ayat 10 (26:10)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسیٰ کو ندا فرمائی کہ ظالم لوگوں کے پاس جا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ نادى ربك موسى: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے موسی کو ندا فرمائی۔} یہاں سے مشرکوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دینے کے لئے اللہ تعالی نے پچھلے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کی قوموں کے واقعات بیان فرمائے ہیں ان کی ترتیب یہ ہے۔ (1)حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ (2)حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ (3)حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ (4)حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ (5)حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ (6)حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ (7)حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ۔ ا س سے پہلے (متعدد سورتوں میں ) ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات گزر چکے ہیں ان واقعات کو بار بار ذکر کرنے سے (ایک) مقصود یہ (بھی) ہے کہ مومن کے ایمان میں اضافہ ہو اور کافر پر مزید حجت قائم ہو جائے۔( البحر المحیط الشعراء تحت الایۃ: ۱۰ ۷ / ۷ صاوی الشعراء تحت الایۃ: ۱۰ ۴ / ۱۴۵۳ ملتقطا) اس ایت سے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام کے واقعے کی ابتداء کی جارہی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ وہ وقت یاد کریں جب اپ کے رب عزوجل نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اس وقت ندا فرمائی جب وہ مدین سے لوٹے اور انہوں نے رات میں درخت اور اگ دیکھی اللہ تعالی نے ان سے فرمایا کہ اے موسی! تم ان لوگوں کے پاس جاو جنہوں نے کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔( روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۱۰ ۶ / ۲۶۵) نوٹ:حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور فرعون کا واقعہ سورہ اعرافسورہ یونسسورہ ہودسورہ طہ اورسورہ مومنون میں گزر چکاہے۔