Surah Ash Shura Ayat 112 (26:112)
The Poets · Juz 19 · Makki
قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 112
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariنوح نے فرمایا: مجھے ان کے کاموں کا علم نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا مجھے کیا خبر ان کے کام کیا ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قال: فرمایا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: جن لوگوں نے میری پیروی کی ہے مجھے ان کے کاموں کا علم نہیں اور نہ ہی مجھے اس سے کوئی غرض اور مطلب ہے کہ وہ کیا پیشے کرتے ہیں میری ذمہ داری انہیں اللہ تعالی کی طرف دعوت دینا ہے (اور وہ میں نے پوری کر دی ہے) اگر تم ان کے گھٹیا پیشوں کوجانتے ہو تو اچھی طرح سمجھ لوکہ ان کا حساب تو میرے رب عزوجل ہی کے ذمہ پر ہے وہی انہیں جزا دے گاتو نہ تم انہیں عیب لگاؤ اور نہ پیشوں کے باعث ان سے عار کرو۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم نے ایمان لانے والوں کے پیشے پر اعتراض کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان پر بھی اعتراض کیا اور یہ کہا تھا کہ جو لوگ اپ پر ایمان لائے ہیں وہ دل سے ایمان نہیں لائے بلکہ صرف ظاہری طور پر ایمان لائے ہیں ۔اس کے جوا ب میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’میری ذمہ داری ظاہر پر اعتبار کرنا ہے باطن کی تفتیش مجھ پر لازم نہیں اگر تمہیں ان کے دل کا حال معلوم ہے تو جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ا س کا ان سے حساب لینا میرے رب عزوجل ہی کے ذمہ پرہے۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۱۱۲-۱۱۳ ۳ / ۳۹۱ مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۱۱۲-۱۱۳ ص۸۲۵ ملتقطا)