Surah Ash Shura Ayat 16 (26:16)
The Poets · Juz 19 · Makki
فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو : بیشک ہم دونو ں اس کے رسول ہیں جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونو ں اس کے رسول ہیں جو رب ہے سارے جہا ں کا۔
Tafseer (Urdu)
{ان ارسل معنا: کہ تو ہما رے ساتھ بھیج دے۔} فرعون نے چار سو برس تک بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھا تھا اور اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تیس ہزار تھی اللہ تعالی کا یہ حکم پا کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام مصر کی طرف روانہ ہوئے آپ علیہ الصلوۃ والسلام پشمینہ کا جبہ پہنے ہوئے تھے دست مبارک میں عصا تھا اورعصا کے سرے میں زنبیل لٹکی ہوئی تھی جس میں سفرکا توشہ تھا۔ اس شان سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام مصر میں پہنچ کر اپنے مکان میں داخل ہوئے۔ حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام وہیں تھے آپ نے انہیں خبر دی کہ اللہ تعالی نے مجھے رسول بنا کر فرعون کی طرف بھیجا ہے اور آپ کو بھی رسول بنایا ہے کہ فرعون کو خدا کی طرف دعوت دو۔ یہ سن کر آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ صا حبہ گھبرائیں اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہنے لگیں کہ فرعون تمہیں قتل کرنے کے لئے تمہاری تلاش میں ہے جب تم اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تمہیں قتل کردے گا لیکن حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام ان کے یہ فرمانے سے نہ رکے اور حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو ساتھ لے کر رات کے وقت فرعون کے دروازے پر پہنچے۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا’’ میں سب جہانوں کے رب کا رسول موسی علیہ الصلوۃ و السلام ہوں ۔ فرعون کو خبر دی گئی اور صبح کے وقت آپ علیہ الصلوۃ والسلام بلائے گئے۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ا س کے پاس پہنچ کر اللہ تعالی کی رسالت ادا کی اور فرعون کے پاس جو حکم پہنچانے پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام مامور کئے گئے تھے وہ پہنچایا۔ فرعون نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو پہچان لیا کیونکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام اسی کے گھر میں پلے بڑھے تھے۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۱۷ ۳ / ۳۸۳-۳۸۴)