Surah Ash Shura Ayat 166 (26:166)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ 166
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوراپنی بیویوں کو چھوڑتے ہو جو تمہارے لیے تمہارے رب نے بنائی ہیں بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور چھوڑتے ہو وہ جو تمہارے لیے تمہارے رب نے جورُوئیں بنائیں بلکہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و تذرون: اور چھوڑتے ہو۔} حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے قوم سے فرمایا کہ تمہارے لیے تمہارے رب عزوجل نے جو بیویاں بنائی ہیں کیا تم ان حلال طیب عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی جیسی حرام اورخبیث چیزمیں مبتلا ہوتے ہوبلکہ تم لوگ اس خبیث عمل کی وجہ سے حد سے بڑھنے والے ہو۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۱۶۶ ص۸۲۹ ملتقطا) عورتوں کے ساتھ بد فعلی کرنے کی وعیدیں : ایت میں مردوں کے ساتھ بدفعلی کے حرام ہونے کا بیان ہے یہاں اس کی مناسبت سے عورت کے ساتھ بھی بدفعلی یعنی پچھلے مقام میں جماع کرنے کا حکم بیان کیا جاتا ہے۔ لہذا یاد رہے کہ بیوی سے جماع کرنا بھی صرف اسی جگہ حلال ہے جہاں کی شریعت نے اجازت دی ہے اور ا س سے بد فعلی کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح مردوں سے بد فعلی کرنا حرام ہے یہاں بیویوں کے ساتھ بد فعلی کرنے کی وعید پر مشتمل4احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی حق بیان کرنے سے حیا نہیں فرماتا تم میں سے کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ عورتوں کے پچھلے مقام میں وطی کرے۔( معجم الکبیرباب من اسمہ: خزیمۃ خزیمۃ بن ثابت الانصاری ذو الشہادتین ہرمی بن عبد اللہ الخطمی عن خزیمۃ بن ثابت۴ / ۸۸ الحدیث: ۳۷۳۶) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اپنی بیوی کے پچھلے مقام میں وطی کرے وہ ملعون ہے۔( ابو داود کتاب النکاح باب فی جامع النکاح ۲ / ۳۶۲ الحدیث: ۲۱۶۲) (3)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی (قیامت کے دن) اس شخص کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرمائے گا جو اپنی بیوی کے پچھلے مقام میں جماع کرے۔( ابن ماجہ کتاب النکاح باب النہی عن اتیان النساء فی ادبارہن ۲ / ۴۴۹ الحدیث: ۱۹۲۳) (4)…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی (قیامت کے دن) اس شخص کی طرف رحمت کی نظر نہیں فرمائے گا جو کسی مرد یا عورت کے پچھلے مقام میں وطی کرے۔(ترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء فی کراہیۃ اتیان النساء فی ادبارہن ۲ / ۳۸۸ الحدیث: ۱۱۶۸) {قالوا: انہوں نے کہا۔} حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی نصیحت کے جواب میں ان لوگوں نے کہا اے لوط!اگر تم نصیحت کرنے اور اس فعل کو برا کہنے سے بازنہ ائے تو ضرور ا س شہر سے نکال دئیے جاو گے اور تمہیں یہاں رہنے نہ دیا جائے گا۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۱۶۷ ص۸۲۹)