Surah Ash Shura Ayat 197 (26:197)
The Poets · Juz 19 · Makki
اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَﭤ 197
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا یہ بات ان کے لیے نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا یہ ان کے لیے نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو جانتے ہیں بنی اسرائیل کے عالم۔
Tafseer (Urdu)
{او لم یكن لهم ایة: اور کیا یہ بات ان کے لیے نشانی نہ تھی۔} یہاں کفار مکہ پر ایک اور حجت بیان کی گئی کہ کیا یہ بات کفار مکہ کے لیے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت و رسالت کی صداقت پر نشانی نہ تھی کہ اس نبی کو بنی اسرائیل کے علماء اپنی کتابوں سے جانتے ہیں اور لوگوں کو ان کی خبریں دیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اہل مکہ نے مدینہ کے یہودیوں کے پاس اپنے با اعتماد بندوں کو یہ دریافت کرنے بھیجا کہ کیا نبی آخر الزمان سید کائنات محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں ان کی کتابوں میں کوئی خبر ہے اس کا جواب یہودی علماء نے یہ دیا کہ یہی ان کا زمانہ ہے اور ان کی نعت و صفت توریت میں موجود ہے۔‘‘یاد رہے کہ یہودی علماء میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ابن یامین ثعلبہ اسد اور اسیدیہ حضرات جنہوں نے توریت میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف پڑھے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لے ائے تھے۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۱۹۷ ۳ / ۳۹۵ ملخصا)