Surah Ash Shura Ayat 198 (26:198)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ 198
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر ا تارتے۔
Tafseer (Urdu)
{و لو نزلنه على بعض الاعجمین: اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے یہ قرآن کریم ایک فصیح بلیغ اورعربی نبی پر اتارا جس کی فصاحت سب اہل عرب مانتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم عاجز کر دینے والا کلام ہے اور اس کی مثل ایک سورت بنانے سے بھی پوری دنیا عاجز ہے۔ علاوہ بریں اہل کتاب کے علماء کا اتفاق ہے کہ قران پاک کے نزول سے پہلے اس کے نازل ہونے کی بشارت اور اس نبی کی صفت ان کی کتابوں میں انہیں مل چکی ہے اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ نبی اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ کتاب اس کی نازل فرمائی ہوئی ہے اور کفارجو طرح طرح کی بے ہودہ باتیں اس کتاب کے متعلق کہتے ہیں سب باطل ہیں اور خود کفار بھی حیران ہیں کہ اس کے خلاف کیا بات کہیں اس لئے کبھی اس کو پہلوں کی داستانیں کہتے ہیں کبھی شعر کبھی جادو اور کبھی یہ کہ معاذاللہ اس کو خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بنالیا ہے اور اللہ تعالی کی طرف اس کی غلط نسبت کردی ہے۔ اس طرح کے بے ہودہ اعتراض عناد رکھنے والا ہر حال میں کرسکتا ہے حتی کہ اگر بالفرض یہ قرآن کسی غیر عربی شخص پر نازل کیا جاتا جو عربی کی مہارت نہ رکھتا اور اس کے باوجود وہ ایسا عاجز کر دینے والا قرآن پڑھ کر سنا تا جب بھی لوگ اسی طرح کفر کرتے جس طرح انہوں نے اب کفر و انکار کیا کیونکہ ان کے کفر و انکار کا باعث عناد ہے۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۱۹۸-۱۹۹ ص۸۳۲) حق بات قبول کرنے میں ایک رکاوٹ: اس سے معلوم ہو اکہ عناد حق بات کو قبول کرنے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ جس شخص کے دل میں کسی کے بارے میں عناد بھرا ہوا ہو وہ اس کے اعتراضات کے جتنے بھی تسلی بخش جوابات دے لے اور حق بات پر جتنے بھی ایک سے ایک دلائل پیش کر دے عناد رکھنے والے کے حق میں سب بے سود ہوتے ہیں اور عناد رکھنے والاان سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ ہی ان کی وجہ سے حق بات کو قبول کرتا ہے۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ جس شخص کے بارے میں دشمنی دل میں بیٹھ جائے تو ا س پر طرح طرح کے بیہودہ اعتراضات شروع کر دئیے جاتے ہیں اور وہ اپنی صداقت و صفائی پر جتنے چاہے دلائل پیش کرے اسے ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالی ایسے لوگوں کو عقل سلیم اور ہدایت عطافرمائےامین۔ { كذلك: یونہی۔} یعنی ہم نے اسی طرح ان کافروں کے دلوں میں اس قران کے جھٹلانے کو داخل کردیا ہے جن کا کفر اختیار کرنا اور اس پر مصر رہنا ہمارے علم میں ہے تو ان کے لئے ہدایت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے کسی حال میں وہ کفر سے پلٹنے والے نہیں ۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۲۰۰ ص۸۳۲)