Surah Ash Shura Ayat 214 (26:214)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ 214
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے محبوب!اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ۔
Tafseer (Urdu)
{و انذر: اور اے محبوب! ڈراؤ۔} ا س سے پہلی ایات میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلیاں دی گئیں پھر اپ کی نبوت پر دلائل قائم کئے گئے پھر منکرین کے سوالات ذکر کر کے ان کے جوابات دئیے گئےاب یہاں سے چند وہ امور بیان کئے جا رہے ہیں جن کا تعلق اسلام کی تبلیغ اور رسالت کے ساتھ ہے۔(تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۲۱۴ ۸ / ۵۳۶) قریبی رشتہ داروں کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانے کا حکم: ابتداء میں دین اسلام کی دعوت پوشیدہ طور پر جاری تھی پھراس ایت میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو قریبی رشتہ داروں کو اسلام کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریبی رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب ہیں ۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں اعلانیہ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا اور خدا کا خوف دلایا۔(جلالین الشعراء تحت الایۃ: ۲۱۴ ص۳۱۶) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’جب یہ ایت کریمہ نازل ہو ئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور اپ نے اواز دی ’’اے بنی فہراے بنی عدی قریش کی شاخو!یہاں تک کہ تمام لوگ جمع ہو گئے اور جو خود نہ جا سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ اکر بتائے کہ بات کیا ہے۔ابو لہب بھی ایا اور سارے قریش ائے۔ (جب سب جمع ہو گئے تو) اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر میں اپ لوگوں سے کہوں کہ وادی کے اس طرف ایک لشکر جرار ہے جو اپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا اپ مجھے سچا جانو گےسب نے کہا :ہاں ! کیونکہ ہم نے اپ سے ہمیشہ سچ بولنا ہی سنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں اپ لوگوں کو قیامت کے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو سب کے سامنے ہے۔یہ سن کر ابو لہب بکواس کرتے ہوئے کہنے لگا’’ کیا ہمیں اسی لئے جمع کیا ہے۔اس وقت یہ سورت نازل ہوئی: ’’ تبت یدا ابی لهب و تب(۱) ما اغنى عنه ماله و ما كسب‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: ابو لہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوجائیں اور وہ تباہ ہوہی گیا۔ اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ ائی۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الشعراء باب وانذر عشیرتک الاقربین۔۔۔الخ ۳ / ۲۹۴ الحدیث: ۴۷۷۰) {و اخفض جناحك: اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ۔} اس ایت ا ور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی قوم کو ڈر سنائیں ا س کے بعدجو لوگ صدق و اخلاص کے ساتھ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لائیں خواہ وہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے رشتہ داری رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں ان پر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لطف و کرم فرمائیں اور جو لوگ اپ کا حکم نہ مانیں تو اپ ان سے اور ان کے اعمال سے بیزاری کا اظہار کر دیں۔(خازنالشعراءتحت الایۃ:۲۱۵-۲۱۶۳ / ۳۹۷-۳۹۸ مدارکالشعراءتحت الایۃ: ۲۱۵-۲۱۶ ص۸۳۴ ملتقطا)