Surah Ash Shura Ayat 22 (26:22)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَﭤ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ کون سی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر رکھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ تو نے غلام بناکر رکھے بنی اسرائیل۔
Tafseer (Urdu)
{و تلك: اور یہ۔} فرعون نے جو احسان جتایا تھا ا س کے جواب میں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’اس میں تیرا کیا احسان ہے کہ تم نے میری تربیت کی اور بچپن میں مجھے اپنے پاس رکھا کھلایا اور پہنایا کیونکہ میرا تجھ تک پہنچنے کا سبب تو یہی ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا اور ان کی اولادوں کو قتل کیاتیرے اس عظیم ظلم کی وجہ سے میرے والدین میری پرورش نہ کرسکے اور مجھے دریا میں ڈالنے پر مجبور ہوئے اگرتو ایسا نہ کرتا تو میں اپنے والدین کے پاس ہی رہتا اس لئے یہ بات کیا اس قابل ہے کہ اس کا احسان جتایا جائے۔ (روح البیان الشعراءتحت الآیہ:۶۲۲ / ۲۶۸ملخصا) اسے دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ کوئی شخص کسی بچے کے باپ کو قتل کرکے بچہ گود میں لے اور اس کی پرورش کرے پھر بڑا ہونے پر اسے احسان جتلائے کہ بیٹا تو یتیم و لاوارث تھا میں نے تجھ پر احسان کیا اور تجھے پال پوس کر بڑا کیا۔ تو اس کے جواب میں وہ بچہ کیا کہے گا۔ وہ یہی کہے گا کہ اپنا احسان اپنے پاس سنبھال کر رکھ۔ مجھے پالنا تو تجھے یاد ہے لیکن یہ تو بتا کہ مجھے یتیم و لاوارث بنایا کس نے تھا