Surah Ash Shura Ayat 23 (26:23)
The Poets · Juz 19 · Makki
قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَﭤ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرعون نے کہا:اور سارے جہان کا رب کیا چیزہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال فرعون: فرعون نے کہا۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تقریر سے فرعون لاجواب ہوگیا او ر اس نے اسلوب کلام بدلا اور یہ گفتگو چھوڑ کر دوسری بات شروع کر دی کہ سارے جہان کا رب کیا چیزہے جس کے تم اپنے آپ کو رسول بتاتے ہو۔(ابو سعود الشعراء تحت الایۃ: ۲۳ ۴ / ۱۵۹ ملخصا) {قال: موسی نے فرمایا۔} بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کا سوال چیز کی جنس کے بارے میں تھا اور اللہ تعالی چونکہ جنس اور ماہیت سے پاک ہے ا س لئے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے اللہ تعالی کے افعال اور ا س کی قدرت کے وہ ا ثار ذکر فرمائے جن کی مثل لانے سے مخلوق عاجز ہےچنانچہ فرمایا کہ سارے جہان کا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان سب کو پیدا کرنے والا ہے اگر تم لوگ اشیاء کو دلیل سے جاننے کی صلاحیت رکھتے ہو تو ان چیزوں کی پیدائش اس کے وجود کی کافی دلیل ہے۔اس مفہوم کے اعتبار سے ایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہرشخص سے اس کے لائق گفتگو کرنی چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں ۔( مسند الفردوس باب الالف ۱ / ۳۹۸ الحدیث: ۱۶۱۱) بعض مفسرین کے نزدیک فرعون کا سوال اللہ تعالی کی صفت کے بارے میں تھا اس لئے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں جو جواب دیا وہ فرعون کے سوال کے مطابق ہے۔ یاد رہے کہ ایقان اس علم کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو اسی لئے اللہ تعالی کی شان میں موقن نہیں کہا جاتا۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۲۴ ۳ / ۳۸۴ مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۲۴ ص۸۱۷ ملتقطا)