Surah Ash Shura Ayat 224 (26:224)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَﭤ 224
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور شاعروں کی پیرو ی توگمراہ لوگ کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الشعرآء: اور شاعر۔} شان نزول: یہ آیت کفار کے ان شاعروں کے بارے میں نازل ہوئی جورسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خلاف شعر بناتے اور یہ کہتے تھے کہ جیسا محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کو نقل کرتے تھے۔ اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی گئی ہے کہ شاعروں کی ان کے اشعار میں پیرو ی توگمراہ لوگ کرتے ہیں کہ ان اشعار کو پڑھتے ہیں رواج دیتے ہیں حالانکہ وہ اشعار جھوٹے اورباطل ہوتے ہیں ۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۲۲۴ ۳ / ۳۹۸-۳۹۹ ملخصا) غلط شاعری کرنے والوں اور سننے پڑھنے والوں کو نصیحت: اس سے معلوم ہو اکہ شاعروں کا جھوٹے اور باطل اشعار لکھناانہیں پڑھنادوسروں کو سنانا اور انہیں معاشرے میں رائج کرنا گمراہ لوگوں کا کام ہے اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو ایسے اشعار لکھتے ہیں جن میں اللہ تعالی اورنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہیندین اسلام اور قران کا مذاق اڑانے اور اللہ تعالی کی بارگاہ کے مقرب بندوں کی شان میں گستاخی کے کلمات ہوتے ہیں یونہی بے حیائی عریانی اور فحاشی کی ترغیب پر مشتمل نیز عورت اور مرد کے نفسانی جذبات کو بھڑکانے والے الفاظ کے ساتھ شاعری کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی نصیحت حاصل کریں جو ان کی بیہودہ شاعری سنتے پڑھتے اوردوسروں کو سناتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرا ہوا ہو۔( بخاری کتاب الادب باب ما یکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر۔۔۔ الخ ۴ / ۱۴۲ الحدیث: ۶۱۵۴) حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اسلام میں فحش اور بے حیائی پر مشتمل اشعار کہے تو ا س کی زبان ناکارہ ہے۔(شعب الایمان الرابع و الثلاثون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ فصل فی حفظ اللسان عن الشعر الکاذب ۴ / ۲۷۶ الحدیث: ۵۰۸۸)اور ایک روایت میں ہے کہ اس کا خون رائیگاں گیا۔( کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الاقوال ۲ / ۲۳۰ الحدیث: ۷۹۷۲ الجزء الثالث) اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائےامین۔ { فی كل واد یهیمون: شاعر ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔} یعنی عرب کے شاعر کلام اور فن کی ہر قسم میں شعر کہتے ہیں کبھی وہ اشعار کی صورت میں کسی کی تعریف کرتے ہیں اور کبھی کسی کی مذمت و برائی بیان کرتے ہیں ۔ان کے اشعار میں اکثر بے حیائی کی باتیں گالی گلوچلعن طعنبہتان اور الزام تراشی فخر و تکبر کا اظہارحسدخود پسندی فضیلت کا اظہار تذلیلتوہینبرے اخلاق اور ایک دوسرے کے نسبوں میں طعن کرنا وغیرہ مذموم چیزیں ہوتی ہیں ۔(روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۲۲۵ ۶ / ۳۱۶ ملخصا) {و انهم یقولون: اور وہ ایسی بات کہتے ہیں ۔} یہاں شاعروں کے قول اور عمل میں تضاد بیا ن کیا گیا کہ وہ اپنے اشعار میں سخاوت کی تعریف بیان کرتے اور اس کی ترغیب دیتے ہیں لیکن خود سخاوت کرنے سے اعراض کرتے ہیں اور بخل کی مذمت بیان کرتے ہیں جبکہ خود انتہائی کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔اگر کسی کے اباء و اجداد میں سے کسی نے کوئی چھوٹی سی غلطی کی ہو تو اس کی وجہ سے لوگوں کی برائی بیان کرتے ہیں اور پھر خود بے حیائی کے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۲۲۶ ۳ / ۳۹۹ تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۲۲۶ ۸ / ۵۳۸ ملتقطا)