Surah Ash Shura Ayat 3 (26:3)
The Poets · Juz 19 · Makki
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(اے حبیب!) کہیں آپ اپنی جان کو ختم نہ کردو اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے۔
Tafseer (Urdu)
{لعلك: کہیں اپ۔} تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ا س بات کی شدید خواہش تھی کہ اہل مکہ ایمان لے ائیں لیکن جب وہ ایمان نہ لائے اور کفار مکہ نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جھٹلایا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان کی ایمان سے محرومی کی وجہ سے قلبی طور پر بہت دکھ ہوا اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے رحمت و کرم کے انداز میں خطاب فرمایا کہ’’ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قران مجید حق کو بیان کرنے میں انتہا کو پہنچا ہو اہے اور کفار مکہ میں سے جو لوگ اللہ تعالی کے علم میں ایمان سے محروم ہیں وہ قران کریم کی ایات سن کر بھی ایمان نہیں لائیں گے اس لئے اپ ان کے ایمان قبول نہ کرنے پر اتنا غم نہ کریں کہ اپ کی جان ہی چلی جائے۔(خازن الشعراء تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۳۸۲ تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۳ ۸ / ۴۹۰ ملتقطا) رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخلوق پر انتہائی کرم نوازی: اس ایت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے انتہائی محبوبیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخلوق پر انتہائی کرم نوازی کا بھی ذکر ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت پر کرم نوازی دنیا میں تو ہے ہی اخرت میں یہ رحمت و شفقت اپنے مرتبہ کمال کو پہنچی ہوئی ہوگی۔ ادھر امت کی حسرت پر ادھر خالق کی رحمت پر نرالا طور ہوگا گردش چشم شفاعت کا