Surah Ash Shura Ayat 49 (26:49)
The Poets · Juz 19 · Makki
قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْۚ-اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ-فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۬ؕ-لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariفرعون نے کہا: کیا تم اس پر ایمان لے آئے اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دوں ۔ بیشک یہ (موسیٰ) تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا توجلد تم جان جاؤ گے تو مجھے قسم ہے میں ضرور ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو پھانسی دوں گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا تو اب جانا چاہتے ہو مجھے قسم ہے بیشک میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا اور تم سب کو سولی دوں گا۔
Tafseer (Urdu)
{قال: فرعون نے کہا۔} جب جادو گر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے ائے تو فرعون نے ان سے کہا: ’’کیا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے ائے۔ بیشک موسی تمہارا بڑا استادہے جس نے تمہیں جادو سکھایا اسی لئے وہ تم پر غالب ا گئے اور تم نے اپس میں مل کر میرے خلاف سازش کی اور میرے ملک میں فساد پھیلانے کی کوشش کی اب تم جان جاو گے کہ تمہارے ا س عمل کی وجہ سے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیاجاتا ہے۔ مجھے قسم ہے! عنقریب میں ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو پھانسی دے دوں گا۔ اس گفتگوسے فرعون کا ایک مقصد یہ تھا کہ لوگ شبہ میں پڑ جائیں اور وہ یہ نہ سمجھیں کہ جادوگروں پر حق ظاہر ہو گیا اسی لئے وہ ایمان لے ائے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ عام مخلوق ڈر جائے اور لوگ جادو گروں کو دیکھ کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان نہ لے آئیں ۔( روح البیان الشعراء تحت الایۃ: ۴۹ ۶ / ۲۷۴-۲۷۵ مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۴۹ ص۸۱۹-۸۲۰ ملتقطا)