Surah Ash Shura Ayat 75 (26:75)
The Poets · Juz 19 · Makki
قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ 75
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariابراہیم نے فرمایا: کیا تم نے ان (بتوں ) کے بارے میں غور کیاجن کی
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا تو کیا دیکھتے ہو جنہیں پوج رہے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قال: فرمایا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان لوگوں سے فرمایا: جن بتوں کی تم عبادت کر رہے ہو اور جن کی تمہارے پہلے اباو اجداد عبادت کرتے رہے ہیں کیا تم نے ان کے بارے میں غور کیااگر تم حقیقی طور پر ان سے متعلق غور کرلو تو جان جاوگے کہ جن بتوں کی تم عبادت کر رہے ہو ان کی عبادت کرنا پرانی گمراہی اور باطل کام ہے اورکوئی باطل کام پرانا ہو یا نیایونہی اس باطل کام کو کرنے والے تھوڑے ہوں یا زیادہ اس سے اس کام کے باطل ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ وہ باطل کا م باطل ہی رہتا ہے۔( روح المعانیالشعراءتحت الایۃ:۷۵-۷۶ ۱۰ / ۱۲۶ تفسیرکبیر الشعراء تحت الایۃ: ۷۵-۷۶ ۸ / ۵۱۰ ملتقطا) غمی خوشی کی ناجائز رسموں میں مبتلالوگوں کو نصیحت: اس تفسیر کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں کو بھی اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے جو غمی خوشی کے موقع پرشریعت کے خلاف رسمیں بجا لانے اور دیگر افعال کرنے پر کوئی شرعی دلیل پیش کرنے کی بجائے یہ کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے بڑے بوڑھے عرصہ دراز سے یہ رسم و کام کرتے چلے ا رہے ہیں اور ہمارے خاندان میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو غمی خوشی کے موقع پران رسموں اور کاموں کو نہ کرتا ہوپھر ہم کسی کے کہنے پر ان چیزوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں !اگر یہ لوگ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دئیے ہوئے احکام کو سامنے رکھ کر اپنے طر زعمل پر صحیح طریقے سے غور کریں تو انہیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ ان کی کچھ رسمیں اور افعال شریعت کے سراسر خلاف ہیں اور یہ ان کے کندھوں پر اپنے اور دوسروں کے گناہوں کا بہت بھاری بوجھ ہیں ۔ اللہ تعالی ایسے لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور شریعت کے احکام کے مطابق عمل کرنے اور ان کے خلاف کام کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔