Surah Ash Shura Ayat 82 (26:82)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓــٴَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِﭤ 82
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری خطائیں بخش دے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا۔
Tafseer (Urdu)
{و الذی اطمع: اور وہ جس سے مجھے امید ہے۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اخر میں اللہ تعالی کا یہ وصف بیان فرمایا کہ میں اس رب تعالی کی عبادت کرتا ہوں جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن وہ میری خطائیں بخش دے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا اللہ تعالی کی ان صفات کو بیان کرنا اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لئے ہے کہ معبود صرف وہی ہوسکتا ہے جس کی یہ صفات ہوں ۔ یاد رہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام معصوم ہیں ان سے گناہ صادر نہیں ہوتے۔ ان کا استغفار کرنا در اصل اپنے رب تعالی کی بارگاہ میں عاجزی و انکساری کا اظہار ہے اور اس میں امت کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ مغفرت طلب کرتے رہا کریں ۔( خازن الشعراء تحت الایۃ: ۸۲ ۳ / ۳۸۹ مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۸۲ ص۸۲۳ ملتقطا)