Surah Ash Shura Ayat 87 (26:87)
The Poets · Juz 19 · Makki
وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ 87
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تخزنی: اور مجھے رسوا نہ کرنا۔} اس ایت اوراس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دعا یہ مانگی کہ اے میرے رب ! عزوجل مجھے قیامت کے اس دن رسوا نہ کرنا جس دن سب لوگوں کو اٹھایا جائے گا اوراس دن نہ مال کام آئے گا اورنہ بیٹے البتہ ا س دن جو اللہ تعالی کے حضور کفر شرک اور نفاق سے سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا تو اسے راہ خدا میں خرچ کیا ہو امال بھی نفع دے گا اور اس کی نیک اولاد بھی اسے نفع دے گی۔( مدارک الشعراء تحت الایۃ: ۸۷-۸۹ ص۸۲۳ ملخصا) اخر ت میں مسلمانوں کو ان کے مال اور اولاد سے نفع حاصل ہو گا: یاد رہے کہ کافر و مشرک جو مال نیک کاموں میں خرچ کرے گا اخرت میں وہ جہنم کے عذاب سے نجات دلانے اور اللہ تعالی کی بارگاہ سے ثواب حاصل کرنے میں اس کے کوئی کام نہ ائے گا البتہ مسلمان جو مال اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرے گا اور جو نیک اولاد چھوڑ کر مرے گا وہ مال اور اولاد اس کے کام ائے گی اور اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے مسلمان کو اس کے صدقات و خیرات کا ثواب عطا فرمائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کے تین اعمال کے علاوہ باقی عمل منقطع ہوجاتے ہیں ۔ (1)صدقہ جاریہ۔(2) وہ علم جس سے لوگ نفع اٹھائیں ۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔( مسلم کتاب الوصیۃ باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ص۸۸۶ الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱)) نوٹ:یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی دعا میں قیامت کے دن کی رسوائی سے جو پناہ مانگی یہ دعا بھی لوگوں کی تعلیم کے لئے ہے تاکہ وہ اس کی فکر کریں اور قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی بارگاہ میں ا س کے لئے دعا بھی مانگیں ۔