Surah An Naml Ayat 41 (27:41)
The Ant · Juz 19 · Makki
قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariحضرت سلیمان نے حکم دیا: اس ملکہ کیلئے اس کے تخت کو تبدیل کردوتا کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا راہ نہ پانے والوں میں سے ہوتی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسلیمان نے حکم دیا عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے۔
Tafseer (Urdu)
{قال: حضرت سلیمان نے حکم دیا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ تخت ا جانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے خادموں کوحکم دیا کہ اس ملکہ کیلئے اس کے تخت کی شکل و صورت کو تبدیل کردوتا کہ ہم دیکھیں کہ وہ اپنے تخت کو دیکھنے کے بعد اسے پہچان پاتی ہے یا نہیں ۔ جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئی تواس وقت تخت حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے موجودتھا۔ملکہ سے کہا گیا: کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے اس نے جواب دیا:گویا یہ وہی ہے۔ اس جواب سے بلقیس کی عقل کا کمال معلوم ہوا۔پھر ملکہ سے کہا گیا کہ یہ تیرا ہی تخت ہے۔ تمہیں دروازے بند کرنےانہیں تالے لگانے اور پہرے دار مقرر کرنے سے کیا فائدہ ہوا پھر ملکہ بلقیس نے اطاعت قبول کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں اللہ تعالی کی قدرت اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت صحیح ہونے کی خبر اس واقعہ سے پہلے ہد ہد کے واقعہ سے اور وفد کے امیر سے مل چکی ہے اور ہم نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کی۔‘‘( روح البیان النمل تحت الایۃ: ۴۱-۴۲ ۶ / ۳۵۲ خازن النمل تحت الایۃ: ۴۱-۴۲ ۳ / ۴۱۳ ملتقطا) {و صدها: اور اسے روکا۔} یعنی بلقیس کو اللہ تعالی کی عبادت کرنے اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرنے سے یا اسلام قبول کرنے کی طرف سبقت کرنے سے سورج کی پوجا نے روک رکھا تھااوربلقیس کا تعلق اس قوم سے تھا جو سورج کی پجاری تھی اور وہ چونکہ انہیں میں پلی بڑھی تھی اس لئے اسے صرف سورج کی عبادت کرنا ہی اتاتھا۔( خازن النمل تحت الایۃ: ۴۳ ۳ / ۴۱۳ مدارک النمل تحت الایۃ: ۴۳ ص۸۴۸ ملتقطا)