Surah Al Qasas Ayat 41 (28:41)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہیں ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انہیں ہم نے دوزخیوں کا پیشوا بنایا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن ان کی مدد نہ ہوگی۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنهم اىمة یدعون الى النار: اور انہیں ہم نے پیشوا بنادیا کہ آگ کی طرف بلاتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے فرعون اور ا س کی قوم کو دنیا میں لوگوں کا پیشوا بنا دیا کہ وہ کفر اور گناہوں کی دعوت دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ عذاب جہنم کے مستحق ہوں اور جو ان کی اطاعت کرے وہ بھی جہنمی ہو جائے اور قیامت کے دن کسی بھی طرح ان سے عذاب دور کر کے ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ (خازن القصص تحت الایۃ: ۴۱ ۳ / ۴۳۴) لوگوں کو گمراہی اور بد عملی کی دعوت دینے والوں کا انجام: اس ایت کے مصداق اج کل کے وہ لوگ بھی ہیں جو لوگوں کو کفر و گمراہی اور بدعملی کی طرف بلاتے ہیں ان پر اپنے ا س عمل کا گناہ ہو گا اور جو لوگ ان کی پیروی کر رہے ہیں وہ بھی گناہگار ہوں گے اور دعوت دینے والوں کے کندھوں پر اپنے عمل کے گناہ کے علاوہ ان کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں کا بوجھ الگ ہوگا۔لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ لیحملوا اوزارهم كاملة یوم القیمة-و من اوزار الذین یضلونهم بغیر علم-الا سآء ما یزرون‘‘(نحل:۲۵) ترجمہکنزالعرفان: اس لئے کہ قیامت کے دن اپنے پورے بوجھ اور کچھ ان لوگوں کے گناہوں کے بوجھ اٹھائیں جنہیں اپنی جہالت سے گمراہ کر رہے ہیں ۔ سن لو! یہ کیا ہی برا بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے ہدایت کی دعوت دی اسے ا س ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور پیروی کرنے والوں کے اجروں میں کوئی کمی نہ ہو گی اور جس شخص نے کسی گمراہی کی دعوت دی اسے اس گمراہی کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ ہو گا اور پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی۔( مسلم کتاب العلم باب من سن سنۃ حسنۃ او سیئۃ۔۔۔ الخ ص۱۴۳۹ الحدیث: ۱۶(۲۶۷۴)) اللہ تعالی ایسے لوگوں کو اپنے حال پر رحم کھانے اور اپنے اس برے عمل سے باز اجانے کی توفیق عطا فرمائے امین۔ {و اتبعنهم: اور ہم نے ان کے پیچھے (لعنت) لگادی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس دنیا میں فرعون اور اس کی قوم پر رسوائی اور رحمت سے دوری لازم کر دی اور قیامت کے دن وہ لوگ بری حالت والوں میں سے ہوں گے۔( مدارک القصص تحت الایۃ: ۴۲ ص۸۷۲)