Surah Al Qasas Ayat 5 (28:5)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَىٕمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان فرمائیں جنہیں زمین میں کمزوربنا یاگیا تھااور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک و مال کا) وارث بنائیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم چاہتے تھے کہ ان کمزوروں پر احسان فرمائیں اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کے ملک و مال کا انہیں کو وارث بنائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و نرید ان نمن: اور ہم چاہتے تھے کہ احسان فرمائیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون نے تو بنی اسرائیل کو کمزور بنا کر رکھا ہوا تھا لیکن اللہ تعالی یہ چاہتا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کی سختی سے نجات دے کر ان پر احسان فرمائے اور انہیں پیشوا بنائے کہ وہ لوگوں کو نیکی کی راہ بتائیں اور لوگ نیکی میں ان کی اقتدا کریں اور اللہ تعالی وہ تمام املاک و اموال ان کمزور بنی اسرائیل کو دیدے جو فرعون اور اس کی قوم کی ملکیت میں تھے اور اللہ تعالی انہیں مصر و شام کی سرزمین میں اقتدار دے اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی دکھادے جس کا انہیں بنی اسرائیل کی طرف سے خطرہ تھااور ا س سے بچنے کی وہ بھرپور کوشش کر رہے تھے یعنی بنی اسرائیل کے ایک فرزند کے ہاتھ سے ان کی سلطنت کا زوال ہونا اور ان لوگوں کا ہلاک ہو جانا۔(مدارک القصص تحت الایۃ: ۵-۶ ص۸۶۰-۸۶۱ روح البیان القصص تحت الایۃ: ۵-۶ ۶ / ۳۸۱ ملتقطا) یاد رہے کہ ایت نمبر5میں وراثت سے مراد شرعی میراث نہیں کیونکہ مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا بلکہ یہاں وراثت کے وسیع مفہوم میں سے ایک معنی مراد ہے یعنی موت کے بعد اس کی سلطنت کا وارث ہونا۔