Surah Al Qasas Ayat 59 (28:59)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَاۚ-وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تمہارا رب شہروں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرکزی شہر میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر (اسی وقت) جب ان کے رہنے والے ظالم ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستم گار ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{و ما كان ربك مهلك القرى حتى یبعث فی امها رسولا: اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرجع شہر میں رسول نہ بھیجے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کے رب عزوجل کی شان یہ ہے کہ وہ شہروں کواس وقت تک ہلاک نہیں فرماتا جب تک ان کے مرکزی مقام میں رسول نہ بھیج دے جو ان میں رہنے والوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھے اور انہیں تبلیغ کرے اور اس بات کی خبر دیدے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں گے تو ان پر عذاب نازل کیا جائے گا تاکہ ان پر حجت لازم ہو جائے اور ان کے لئے عذر کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے ۔ اور ہم شہروں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان میں رہنے والے لوگ ظالم ہوں رسول کوجھٹلاتے ہوں اپنے کفر پر قائم ہوں اور اس سبب سے وہ عذاب کے مستحق ہوں ۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس ایت میں مرکزی شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور رسول سے مراد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں کیونکہ اپ اخری نبی ہیں ۔( مدارک القصص تحت الایۃ: ۵۹ ص۸۷۵-۵۷۶ خازن القصص تحت الایۃ: ۵۹ ۳ / ۴۳۷ ملتقطا) موجودہ زمانے کے کفار کو نصیحت: اس ایت سے معلوم ہو اکہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تشریف اوری سے پہلے کی وہ بستیاں جو اجڑی ہوئی اور ویران نظر ارہی ہیں اور فی زمانہ بھی ان میں سے کئی بستیوں کے اثار باقی ہیں یہ بغیرکسی وجہ کے تباہ وبرباد نہیں کی گئیں بلکہ ان میں بھی اللہ تعالی نے اپنے رسول علیہم الصلوۃ والسلام بھیجے جنہوں نے ان میں رہنے والوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچایا اور انہیں کفر و شرک چھوڑ کر اللہ تعالی کی وحدانیت کو ماننے اور صرف اسی کی عبادت کرنے کی دعوت دی لیکن جب وہاں کے رہنے والوں نے اللہ تعالی کے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کی بات ماننے کی بجائے انہیں جھٹلایااور اپنے کفروشرک پراڑے رہے تو اللہ تعالی نے ان کے اس ظلم کی وجہ سے انہیں ہلاک اور ان کے شہروں اور بستیوں کوتباہ وبربادکردیا۔