Surah Al Qasas Ayat 80 (28:80)
The Stories · Juz 20 · Makki
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ-وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ 80
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا: تمہاری خرابی ہو، الله کا ثواب بہتر ہے اس آدمی کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو دیا جائے گا جو صبر کرنے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری الله کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و قال الذین اوتوا العلم: اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا۔} یعنی بنی اسرائیل کے علماء جو کہ اخرت کے احوال کا علم رکھتے اور دنیا سے بے رغبت تھے انہوں نے تمنا کرنے والوں سے کہا:اے دنیا کے طلبگارو! تمہاری خرابی ہو جو ادمی ایمان لائے اور اچھے کام کرے ا س کے لئے اخرت میں اللہ تعالی کا ثواب اس دولت سے بہتر ہے جو دنیا میں قارون کو ملی اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں ۔ یعنی نیک عمل کرناصبرکرنے والوں ہی کا حصہ ہے اور اس کا ثواب وہی پاتے ہیں ۔( خازن القصص تحت الایۃ: ۸۰ ۳ / ۴۴۱ روح البیان القصص تحت الایۃ: ۸۰ ۶ / ۴۳۴ ملتقطا) غافلوں اور علم والوں کا حال: معلوم ہوا کہ دنیا داروں کی دنیا کو لالچ کی نظر سے دیکھنا اور انہیں ملنے والی دنیا کی تمنا کرناغافل لوگوں کا کام ہے جبکہ اہل علم حضرات دنیا سے بے رغبت رہتے اخرت میں ملنے والے ثواب پر نظر رکھتے اور یہ ثواب پانے کی امید رکھتے ہوئے نیک اعمال کرتے اور گناہوں سے باز رہتے ہیں اور ا س کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی دنیا کے عیش وعشرت کے حصول کی تمنا کرنے کی بجائے اخروی ثواب پانے کے لئے کوششیں کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں ۔ لہذا عوام کو چاہئے کہ ایسی غفلت کا شکار ہونے سے بچیں اور اہل علم حضرات کو چاہئے کہ خود بھی زہد و تقوی کے پیکر بنیں اور عوام کو بھی اپنی اصلاح کی طرف راغب کرنے کی کوششیں کریں ۔ اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائےامین۔