Surah Al Ankabut Ayat 26 (29:26)
The Spider · Juz 20 · Makki
فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌۘ-وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ابراہیم کی تصدیق لوط نے کی اور ابراہیم نے فرمایا: میں اپنے رب کی (سر زمین شام کی) طرف ہجرت کرنے والا ہوں، بیشک وہی عزت والا، حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو لوط اس پر ایمان لایا اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں بیشک وہی عزت و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فامن له لوط: تو ابراہیم کی تصدیق لوط نے کی۔} جب اللہ تعالی کے فضل وکرم سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اگ سے صحیح سلامت تشریف لائے تواپ کایہ معجزہ دیکھ کرحضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے اپ کی رسالت کی تصدیق کی آپ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں ۔ یاد رہے کہ یہاں ایمان سے رسالت کی تصدیق ہی مراد ہے کیونکہ اصل توحید کا اعتقاد تو ان کو ہمیشہ سے حاصل ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہمیشہ ہی مومن ہوتے ہیں اور کسی حال میں ان سے کفرکا تصور تک نہیں کیا سکتا۔( خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۴۴۹) {و قال انی مهاجر الى ربی: اور ابراہیم نے فرمایا: میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے اگ سے صحیح سلامت تشریف لانے اور اتناعظیم الشان معجزہ دیکھنے کے باوجو د اپ کی قوم ایمان نہ لائی اورکفروشرک پربضدرہی تواپ نے اس جگہ سے ہجرت کرنے کاارادہ فرمایا۔ چنانچہ آپ نے عراق سے سرزمین شام کی طرف ہجرت فرمائی اس ہجرت میں اپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت سارہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔( خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۴۴۹) ایت ’’و قال انی مهاجر الى ربی‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے : (1)… بوقت حاجت ہجرت کرنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ (2)… ایسی جگہ چلا جانا جہاں اللہ تعالی کی عبادت کرنے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو دراصل اللہ تعالی کی طرف جانا ہے کیونکہ اللہ تعالی جگہ سے پاک ہے تو ا س کے حق میں یہاں وہاں سب برابر ہے۔