Surah Al Ankabut Ayat 28 (29:28)
The Spider · Juz 20 · Makki
وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ٘-مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور لوط کو (یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: تم بیشک بے حیائی کا وہ کام کرتے ہوجو تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور لوط کو نجات دی جب اُس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا۔
Tafseer (Urdu)
{و لوطا: اور لوط کو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو یاد کریں جب انہوں نے اپنی قوم کو ملامت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم بے حیائی کا وہ کام کرتے ہوجو تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہ کیا ۔کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اورراہ گیروں کو قتل کر کے اور ان کے مال لوٹ کر لوگوں کاراستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام اور بری باتیں کرنے کو اتے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگ مسافروں کے ساتھ بد فعلی کرتے تھے حتی کہ لوگوں نے اس طرف گزرنا موقوف کر دیا تھا اور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے لوگ بد فعلی کے علاوہ ایسے ذلیل افعال اور حرکات کے عادی تھے جو عقلی اور عرفی دونوں طرح سے قبیح اور ممنوع تھے جیسے گالی دینا فحش بکنا تالی اور سیٹی بجانا ایک دوسرے کوکنکریاں مارنا راستہ چلنے والوں پر کنکری وغیرہ پھینکنا شرا ب پینا مذاق اڑانا گندی باتیں کرنا اورایک دوسرے پر تھوکنا وغیرہ۔ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر انہیں ملامت کی تو ان کی قوم نے مذاق اڑانے کے طور پر یہ کہا : اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ افعال قبیح ہیں اور ایسا کرنے والے پر عذاب نازل ہو گاتوہم پر اللہ تعالی کا عذاب لے اؤ۔(مدارکالعنکبوتتحت الایۃ: ۲۸-۲۹ ص۸۹۱ خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۲۸-۲۹ ۳ / ۴۴۹-۴۵۰ ملتقطا) { قال: عرض کی۔} جب حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو اس قوم کے راہ راست پر آنے کی کچھ امید نہ رہی تو آپ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیـ:اے میرے رب! عزوجل عذاب نازل ہونے کے بارے میں میری بات پوری کر کے ان فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اللہ تعالی نے اپ کی دعا قبول فرما لی۔( خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۳۰ ۳ / ۴۵۰ جلالین العنکبوت تحت الایۃ: ۳۰ ص۳۳۷ ملتقطا)