Surah Al Ankabut Ayat 33 (29:33)
The Spider · Juz 20 · Makki
وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ- اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے توانہیں فرشتوں کا آنا برا لگا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اورفرشتوں نے کہا: آپ نہ ڈریں اور نہ غمگین ہوں، بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچانے والے ہیں سوائے آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے ان کا آنا اُسے ناگوار ہوا اور اُن کے سبب دل تنگ ہوا اور انہوں نے کہا نہ ڈرئیے اور نہ غم کیجئے بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر آپ کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لما ان جآءت رسلنا لوطا: اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کرنے کے بعد اللہ تعالی کے فرشتے خوب صورت مہمانوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس آئے توانہیں قوم کے افعال و حرکات اور ان کی نالائقی کا خیال کر کے فرشتوں کا آنا برا لگا اور ان کی حفاظت کی کوئی تدبیر نہ کر سکنے کے سبب غمزدہ ہوئے اس وقت فرشتوں نے ظاہر کیا کہ وہ اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے ہیں اورانہوں نے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو تسلی دیتے ہوئے کہا: اپ قوم سے نہ ڈریں اور نہ ہمارے بارے میں یہ سوچ کر غمگین ہوں کہ قوم کے لوگ ہمارے ساتھ کوئی بے ادبی یا گستاخی کریں گے ہم فرشتے ہیں اور ہم ان لوگوں کو ہلاک کردیں گے اور بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو نازل ہونے والے عذاب سے بچانے والے ہیں البتہ اپ کی بیوی کو نہیں بچائیں گے کیونکہ وہ بھی عذاب میں مبتلا ہونے والوں میں سے ہے اور اسے بھی بقیہ لوگوں کے ساتھ عذاب دیاجائے گا۔بیشک ہم اس شہر والوں پر آسمان سے عذاب اتارنے والے ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے تھے اور اسی پر قائم تھے ۔چنانچہ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے اہل خانہ میں سے ان پر ایمان لانے والوں اور دیگر مومنوں کو بچا لیا گیا اور باقی لوگوں کو انتہائی دردناک عذاب سے ہلاک کر دیا گیا۔( خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ۳ / ۴۵۰ روح البیان العنکبوت تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ۶ / ۴۶۶-۴۶۷ جلالین العنکبوت تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ص۳۳۷-۳۳۸ ملتقطا) ایت ’’و لما ان جآءت رسلنا‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام: اس ایت سے تین باتیں معلوم ہوئیں (1)… مہمان کی حفاظت اور توقیر میزبان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ (2)… کبھی نبی علیہ السلام فرشتے کو نہیں بھی پہچانتے البتہ یاد رہے کہ جب وحی نازل ہونے کے وقت فرشتہ حاضر ہوتا ہے تو اس وقت نبی علیہ السلام فرشتے کو ضرور پہچانتے ہیں اگر اس وقت بھی نہ پہچانیں تو وحی قطعی نہ رہے گی۔ (3)… اللہ تعالی کے مقرب بندے اللہ تعالی کی عطا سے بندوں کو انے والی مصیبتوں سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں اور بچاتے بھی ہیں۔