Surah Al Ankabut Ayat 65 (29:65)
The Spider · Juz 21 · Makki
فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو الله کو پکارتے ہیں اس حال میں کہ اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہیں پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا کرلاتا ہے تواس وقت شرک کرنے لگتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں الله کو پکارتے ہیں ایک اسی پر عقیدہ لاکر پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے جبھی شرک کرنے لگتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فاذا ركبوا فی الفلك: پھر جب لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بحری سفر کرتے وقت بتوں کوساتھ لے جاتے تھے دوران سفرجب ہوا مخالف چلتی اور کشتی ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا تو وہ لوگ بتوں کو دریا میں پھینک دیتے اور یارب !یارب !پکارنے لگتے لیکن امن پانے کے بعد پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاتے ۔ان کی ا س حماقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب کافرلوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور سفر کے دوران انہیں ہوا مخالف سمت چلنے کی وجہ سے ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنے شرک اور عناد کے باوجود بتوں کو نہیں پکارتے بلکہ اللہ تعالی کو پکارتے ہیں اور اس وقت ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اس مصیبت سے صرف اللہ تعالی ہی نجات دے گا پھر جب اللہ تعالی انہیں ڈوبنے سے بچا کر خشکی کی طرف لاتا ہے اور ڈوب جانے کا اندیشہ اور پریشانی جاتی رہتی ہے اور انہیں اطمینان حاصل ہوجاتا ہے تواس وقت دوبارہ شرک کرنے لگ جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر وہ شرک کی صورت میں ہماری دی ہوئی نجات والی نعمت کی ناشکری کرتے ہیں تو عنقریب وہ اپنے کردار کا نتیجہ جان لیں گے۔( خازنالعنکبوتتحت الایۃ:۶۵-۶۶۳ / ۴۵۶ روح البیانالعنکبوتتحت الایۃ:۶۵-۶۶۶ / ۴۹۳-۴۹۴ ملتقطا) مصیبت کے وقت مخلص مومن اور کافر کا حال: یاد رہے کہ مخلص ایمان والوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نعمتوں کے اخلاص کے ساتھ شکر گزار رہتےہیں اور جب کوئی پریشان کن صورت حال پیش آتی ہے اور اللہ تعالی اس سے رہائی دیتا ہے تو وہ اس کی اطاعت میں اور زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں مگر کافروں کا حال اس کے بالکل برخلاف ہے۔ لیکن افسوس! فی زمانہ مسلمانوں کاحال بھی کافروں کے پیچھے پیچھے ہی چل رہا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت اتی ہے تو اللہ اللہ کرنے میں مشغول ہو جاتے ہیں اور بڑی عاجزی اور گریہ و زاری کے ساتھ اس کی بارگاہ میں ا س مصیبت سے نجات کی دعائیں کرتے ہیں اور جب اللہ تعالی وہ مصیبت ان سے دور کر دیتا ہے تو پھر وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے والی اپنی پرانی روش پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے امین۔