Surah Al Imran Ayat 105 (3:105)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں مُتَفَرّق ہو گئے اورانہوں نے اپنے پاس روشن نشانیاں آجانے کے بعد (بھی) آپس میں اختلاف کیا اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑگئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تكونوا كالذین تفرقوا: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں متفرق ہو گئے۔} ارشاد فرمایا کہ اپس میں تفرقہ بازی اور اختلافات میں نہ پڑجانا جیسا کہ یہود ونصاری آپس میں اختلافات میں پڑگئے اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ عناد اور دشمنی راسخ ہوگئی یا ایت کا یہ معنی ہے کہ اپس میں اس طرح اختلاف و افتراق میں نہ پڑجانا جیسے تم زمانہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے وقت میں متفرق تھے اورتمہارے درمیان بغض و عناد تھا۔ اتفاق کا حکم اور اختلاف کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت: اس آیتمیں مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اجتماع کا حکم دیا گیا اور اختلاف اور اس کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ احادیث میں بھی اس کی بہت تاکیدیں وارد ہیں اور مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہونے کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالی کا دست رحمت جماعت پر ہے اور جو جماعت سے جدا ہوا وہ دوزخ میں گیا۔ (ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ ۴ / ۶۸ الحدیث: ۲۱۷۳) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہ ہو گیجب تم اختلاف دیکھو تو بڑی جماعت کو لازم پکڑ لو۔(ابن ماجہ کتاب الفتن باب السواد الاعظم ۴ / ۳۲۷ الحدیث: ۳۹۵۰) اج کل جو فرقہ پیدا ہوتا ہے وہ اس حکم کی مخالفت کرکے ہی پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں میں تفرقہ اندازی کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور حدیث کے مطابق وہ شیطان کا شکار ہے ۔(معجم الکبیر باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ۔۔۔ الخ ۱ / ۱۸۶ الحدیث: ۴۸۹) اللہ تعالی ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔ خیال رہے کہ نا اتفاقی اور پھوٹ کا مجرم وہ شخص ہوگا جو مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر نئی راہ نکالے جو اسلام کی راہ پر قائم ہے وہ مجرم نہیں۔