Surah Al Imran Ayat 106 (3:106)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌۚ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ۫-اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ 106
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس دن کئی چہرے روشن ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے تو وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا کہ) کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے تھے؟ تو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس دن کچھ منہ اونجالے(روشن) ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کے منہ کالے ہوئے کیا تم ایمان لاکر کافر ہوئے تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ۔
Tafseer (Urdu)
{یوم تبیض وجوه : جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے۔} یہاں ایات میں قیامت کے دن کا منظر بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن کچھ چہرے روشن ہوں گے جو یقینا اہل ایمان کے ہوں گے اورکچھ چہرے سیاہ ہوں گے جو یقینا کفار کے ہوں گے اور کافروں سے کہا جائے گا کہ ’’کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے تھے تو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ یہاں فرمایا کہ’’ایمان کے بعد کافر ہوئے تھے ‘‘ اس سے اگر تمام کفار کو خطاب ہے تواس صورت میں ایمان سے روز میثاق کا ایمان مراد ہے کہ جب اللہ تعالی نے ان سے فرمایا تھا ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ‘‘ توسب نے ’’ بلی‘‘ یعنی ’’کیوں نہیں ‘‘کہا تھا اور ایمان لائے تھے ۔اب جو دنیا میں کافر ہوئے تو ان سے فرمایا جاتا ہے کہ’’ روز میثاق ایمان لانے کے بعد تم کافر ہوگئے۔ امام حسن بصری رحمۃاللہ تعالی علیہ کا قول ہے کہ اس سے منافقین مراد ہیں جنہوں نے زبان سے اظہار ایمان کیا تھا اور ان کے دل منکر تھے۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں جورسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت سے پہلے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لائے اور ظہور کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا انکا ر کرکے کافر ہوگئے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کے مخاطب مرتدین ہیں جو اسلام لا کر پھر گئے اور کافر ہو گئے۔ (خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۰۶ ۱ / ۲۸۶) ان سے کہا جائے گا کہ اپنے کفر کے بدلے اب عذاب کا مزہ چکھو۔