Surah Al Imran Ayat 133 (3:133)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ 133
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑوجس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین آ جائیں پرہیزگاروں کے لئے تیار رکھی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و سارعوا الى مغفرة من ربكم : اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو۔} فرمایا گیا کہ گناہوں سے توبہ کرکے اللہ عزوجل کے فرائض کو ادا کرکے نیکیوں پر عمل پیرا ہوکر اور تمام اعمال میں اخلاص پید اکرکے اپنے رب عزوجل کی بخشش اور جنت کی طرف جلدی کرو۔ پھر جنت کی وسعت اس طرح بیان فرمائی کہ لوگ سمجھ سکیں کیونکہ لوگ جو سب سے وسیع چیز دیکھتے ہیں وہ آسمان و زمین ہی ہے اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگرتمام آسمانوں اور زمینوں کوترتیب سے ایک لائن میں رکھ کرجوڑ دیا جائے تو جو وسعت بنے گی اس سے جنت کی چوڑائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنت کتنی وسیع ہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا گیا کہ جنت آسمان میں ہے یا زمین میں فرمایا: کون سی زمین اور کون سا آسمان ایسا ہے جس میں جنت سما سکے۔ عرض کیا گیا :پھر کہاں ہے فرمایا: آسمانوں کے اوپر عرش کے نیچے۔ (خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۳۳ ۱ / ۳۰۱) جنت نہایت عظیم الشان جگہ ہے اللہ تعالی کی رضا اور اس کے دیدارکا مقام ہے۔ قران پاک میں جنت کی عظمت کو بکثرت بیان کیا گیا ہے اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صدقے ہمیں جنت الفردوس میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا پڑوس نصیب فرمائے۔ یہ بات بھی سامنے رکھیں کہ اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت ’’و اتقوا النار التی اعدت للكفرین‘‘ سے ثابت ہوا کہ جنت و دوزخ پیدا ہوچکی ہیں اور دونوں موجود ہیں کیونکہ دونوں ایتوں میں ماضی کے زمانے میں جنت و دوزخ کے تیار ہونے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔