Surah Al Imran Ayat 145 (3:145)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًاؕ-وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَاۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَاؕ-وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ 145
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کوئی جان اللہ کے حکم کے بغیر نہیں مرسکتی ،سب کاوقت لکھا ہوا ہے اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے دنیا کا کچھ انعام دیدیں گے اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے آخرت کا انعام عطافرمائیں گے اور عنقریب ہم شکر ادا کرنے والوں کو صلہ عطا کریں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کوئی جان بے حکم خدا مر نہیں سکتی سب کا وقت لکھا رکھا ہے اور جو دنیا کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں اور جو آخرت کا انعام چاہے ہم اس میں سے اسے دیں اور قریب ہے کہ ہم شکر والوں کو صلہ عطا کریں۔
Tafseer (Urdu)
{كتبا مؤجلا: سب کا وقت لکھا ہوا ہے۔} اس ایت میں جہاد کی ترغیب ہے اور مسلمانوں کو دشمن کے مقابلہ پر جری بنایا جارہا ہے کہ کوئی شخص بغیر حکم الہی کے مر نہیں سکتا چاہے وہ کتنی ہی ہلاکت خیزلڑائی میں شرکت کرے اورکتنے ہی تباہ کن میدان جنگ میں داخل ہوجائے جبکہ اس کے برعکس جب موت کا وقت آتا ہے تو کوئی تدبیر نہیں بچاسکتی خواہ وہ ہزاروں پہرے دار اور محافظ مقرر کرلے اور قلعوں میں جاچھپے کیونکہ ہر ایک کی موت کا وقت لکھا ہوا ہے وہ وقت آگے پیچھے نہیں ہوسکتا ۔ {و من یرد ثواب الدنیا: اور جو دنیا کا انعام چاہتا ہے۔} یہاں سے لوگوں کے دو گروہوں کا تذکرہ شروع ہوتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ جو شخص صرف دنیاکی نعمتیں اور اسائشیں چاہتا ہے اور اس کے عمل سے صرف دنیا کا حصول مقصود ہوتا ہے ہم اسے دنیا دیدیتے ہیں یعنی اس کے عمل پر اسے دنیا کا فائدہ مل جاتا ہے اور چونکہ اخرت اس کا مطلوب نہیں لہذا اخرت کے ثواب سے وہ محروم رہتا ہے۔ جبکہ جو شخص اپنے عمل سے اخرت کا طالب ہوتا ہے اسے اخروی ثواب عطا فرمایا جاتا ہے اور دنیا تو سب کو مل ہی جاتی ہے۔ اعمال کے ثواب کا دارو مدار نیت پر ہے: اس سے معلوم ہوا اعمال میں دارومدار نیت پر ہے جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث ہے ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱ / ۵ الحدیث: ۱) جیسے یہاں جہاد کی بات چل رہی ہے تو جس کا مقصد جہاد سے صرف شہرت دولت اور مال غنیمت ہوگا ہوسکتا ہے کہ اسے یہ چیزیں مل جائیں لیکن اخرت کا ثواب ہرگز نہیں ملے گا جبکہ اگر وہ اخرت کا طلبگارہو تو اخرت کا ثواب تو اسے ملے گا اس کے ساتھ وہ عزت و شہرت اور مال غنیمت سے بھی محروم نہیں رہے گا۔