Surah Al Imran Ayat 172 (3:172)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ﳍ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌ 172
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ لوگ جو اللہ او ررسول کے بلانے پر زخمی ہونے کے باوجود (فوراً) حاضر ہو گئے ان نیک بندوں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو اللہ و رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا ان کے نکوکاروں اور پرہیزگاروں کے لئے بڑا ثواب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الذین استجابوا لله و الرسول : وہ لوگ جو اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہوگئے۔}شان نزول: جنگ احد سے فارغ ہونے کے بعد جب ابوسفیان اپنے ہمراہیوں کے ساتھ ’’روحاء‘‘نامی جگہ پہنچا تو انہیں افسوس ہوا کہ وہ واپس کیوں آگئے مسلمانوں کا بالکل خاتمہ ہی کیوں نہ کردیا۔ یہ خیال کرکے انہوں نے پھر واپس ہونے کا ارادہ کیا توتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ابوسفیان کے تعاقب کے لئے روانگی کا اعلان فرمادیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک جماعت جن کی تعداد ستر تھی اورجو جنگ احد کے زخموں سے چور ہورہے تھے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اعلان پر حاضر ہوگئے اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس جماعت کو لے کر ابوسفیان کے تعاقب میں روانہ ہوگئے ۔ جب حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ’’حمراء الاسد‘‘ نامی جگہ پر پہنچے جو مدینہ منورہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے تو وہاں معلوم ہواکہ مشرکین خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے ہیں۔اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔ (مدارک ال عمران تحت الایۃ: ۱۷۲ ص۱۹۷) اس ایت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی عظمت و ہمت کا بیان بھی ہے کہ زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم پر فورا حاضر ہوگئے۔ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی دونیم ان کی ٹھوکر سے دریا و صحرا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی