Surah Al Imran Ayat 173 (3:173)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا ﳓ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ 173
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے (ایک لشکر) جمع کرلیاہے سوان سے ڈرو توان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیااور کہنے لگے: ہمیں اللہ کافی ہے اورکیا ہی اچھا کارساز ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کارساز۔
Tafseer (Urdu)
{الذین قال لهم الناس: یہ وہ لوگ ہیں جن سے لوگوں نے کہا ۔ } شان نزول: جنگ احد سے واپس ہوتے ہوئے ابوسفیان نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوپکار کر کہہ دیا تھا کہ اگلے سال ہماری آپ کی مقام بدر میں جنگ ہوگی۔ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: ’’ان شاء اللہ‘‘ جب وہ وقت آیا اور ابوسفیان اہل مکہ کو لے کر جنگ کے لیے روانہ ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کے دل میں خوف ڈالا اور انہوں نے واپس ہونے کا ارادہ کیا ۔ اس موقع پر ابوسفیان کی نعیم بن مسعود سے ملاقات ہوئی جو عمرہ کرنے آیا تھا۔ ابوسفیان نے اس سے کہا کہ اے نعیم ! اس زمانہ میں میری لڑائی مقام بدر میں محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ طے ہوچکی ہے اور اس وقت مجھے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں جنگ میں نہ جاوں بلکہ واپس چلاجاوں۔ لہذا تم مدینے جاو اور حکمت و تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو میدان جنگ میں جانے سے روک دو۔ اس کے عوض میں تجھے دس اونٹ دوں گا۔ نعیم نے مدینہ پہنچ کر دیکھا کہ مسلمان جنگ کی تیاری کررہے ہیں یہ دیکھ کر ان سے کہنے لگا کہ تم جنگ کے لئے جانا چاہتے ہو اہل مکہ نے تمہارے لئے بڑے لشکر جمع کئے ہیں۔ خدا کی قسم !تم میں سے ایک بھی سلامت واپس نہ آئے گا۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’خدا کی قسم میں ضرور جاوں گا چاہے میرے ساتھ کوئی بھی نہ ہو۔ چنانچہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو ساتھ لے کر ’’ حسبنا اﷲ و نعم الوکیل ‘‘ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے اور بدر میں پہنچے وہاں آٹھ دن قیام کیا مال تجارت ساتھ تھااسے فروخت کیا اورخوب نفع ہوا اور پھر سلامتی کے ساتھ مدینہ طیبہ واپس ائے اور جنگ نہیں ہوئی۔ چونکہ ابو سفیان اور اہل مکہ خوف زدہ ہو کر مکہ مکرمہ کو واپس ہوگئے تھے اس واقعہ کے متعلق یہ آیت اور اس کے بعد والی ایت نازل ہوئی۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۷۲ ۱ / ۳۲۵-۳۲۶) اس واقعہ کو بدر صغری کا واقعہ کہتے ہیں۔ اس واقعہ سے بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی عظمت واضح ہوتی ہے کہ جب انہیں کافروں کے بڑے بڑے لشکروں سے ڈرایا جارہا ہے تو بجائے ڈرنے اور بزدلی دکھانے کے ان کی ہمت اور جوانمردی اور بڑھ جاتی ہے ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کی زبانوں پر ایک ہی وظیفہ جاری ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ عزوجل کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے۔ کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی