Surah Al Imran Ayat 181 (3:181)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
لَقَدْ سَمِـعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُۘ-سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ-وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ 181
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اللہ نے ان کا قول سن لیا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں ۔ اب ہم ان کی کہی ہوئی بات اور ان کا انبیاء کو ناحق شہید کرنا لکھ رکھیں گے اور کہیں گے: جلادینے والے عذاب کا مزہ چکھو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی اب ہم لکھ رکھیں گے ان کا کہا اور انبیاء کو ان کا ناحق شہید کرنا اور فرمائیں گے کہ چکھو آگ کا عذاب ۔
Tafseer (Urdu)
{لقد سمع الله: بیشک اللہ نے سن لیا۔ }اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ جب یہ ایت نازل ہوئی ’’من ذا الذی یقرض الله قرضا حسنا‘‘ کہ کون ہے جو رب تعالی کو اچھا قرض دے تو یہود یوں نے کہا کہ اللہ تعالی ہم سے قرض مانگ رہا ہے تو ہم غنی ہوئے اوراللہ تعالی فقیر ۔ اس پر یہ ایت کریمہ اتری ۔(تفسیر کبیر ال عمران تحت الایۃ: ۱۸۱ ۳ / ۴۴۶) اور فرمایا گیا کہ اللہ تعالی نے ان گستاخوں کی بات سن لی ہے جنہوں نے کہا کہ اللہ عزوجل محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اب ہم ان کے اعمال ناموں میں ان کی کہی ہوئی بات اور ان کے دوسرے کفریات جیسے ان کا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو شہید کرنا لکھ رکھیں گے اورقیامت کے دن ان کی ان گستاخیوں کے بدلے میں کہیں گے کہ’’ اب جلا دینے والے عذاب کا مزہ چکھو ۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی گستاخی اللہ تعالی کی گستاخی ہے: یہاں ایت میں اللہ تعالی کی گستاخی اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو قتل کرنے کو ساتھ ساتھ بیان کرکے عذاب کی ایک ہی وعید بیان کی ہے اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں جرم بہت عظیم ترین ہیں اور قباحت میں برابر ہیں اور شان انبیاءعلیہم الصلوۃ والسلام میں گستاخی کرنے والا شان الہی عزوجل میں گستاخی کرنے والے کی طرح جہنم کا مستحق ہے کیونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی گستاخی اللہ تعالی کی گستاخی ہے ۔