Surah Al Imran Ayat 191 (3:191)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 191
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
Tafseer (Urdu)
{الذین یذكرون الله: وہ جواللہ کو یاد کرتے ہیں۔} یہاں عقلمند لوگوں کا بیان ہے کہ وہ ہیں کون اور ان کے چند اہم کام بیان فرمائے گئے ہیں۔ عقلمند لوگوں کے اہم کام: (1)…عقلمند لوگ کھڑے بیٹھے اور بستروں پر لیٹے ہر حال میں اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہیں۔ مولی کریم کی یاد ہر وقت ان کے دلوں پر چھائی رہتی ہے۔ (2)…عقلمند لوگ کائنات میں غوروفکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور کائنات کے دیگر عجائبات میں غور کرتے ہیں اور ان کا مقصد اللہ تعالی کی عظمت و قدرت کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنا ہے۔ (3)…کائنات میں غور وفکر کے بعد اللہ تعالی کی عظمت ان پر اشکار ہوتی ہے اور ان کے دل اللہ عزوجل کی عظمت کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی زبانیں اللہ عزوجل کی عظمت کے ترانے پڑھتی ہیں۔ (4)…اللہ تعالی کی بارگاہ میں دوزخ کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام چیزیں کامل الایمان لوگوں کے اوصاف ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہے ۔ ہمارے اسلاف اللہ عزوجل کی یاد میں بہت رغبت رکھتے تھے چنانچہ حضرت سری سقطی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جرجانی رحمۃاللہ تعالی علیہ کے پا س ستو دیکھے جس سے وہ بھوک مٹا لیتے تھے۔ میں نے کہا: اپ کھانا اور دوسری اشیا ء کیوں نہیں کھاتے اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا: میں نے چبانے اور یہ ستو کھا کر گزارہ کرنے میں نوے تسبیحات کا فرق پایا ہے لہذا چالیس سال سے میں نے روٹی نہیں چبائی تا کہ ان تسبیحات کا وقت ضائع نہ ہو۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ تعالی علیہ کا معمول یہ تھا کہ اپ با زار جاتے اور اپنی دکان کھول کر اس کے اگےپردہ ڈال دیتے اور چار سو رکعت نفل ادا کر کے دکان بند کر کے گھر واپس ا جاتے ۔(مکاشفۃ القلوب الباب الحادی عشر فی طاعۃ اللہ ومحبۃ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم ص۳۸) کائنات میں تفکر کی ضرورت: جس طرح کسی کی عظمت قدرت حکمت اور علم کی معرفت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ اس کی بنائی ہوئی چیز ہوتی ہے کہ اس میں غورو فکر کرنے سے یہ سب چیزیں اشکار ہو جاتی ہیں اسی طرح اللہ تعالی کی عظمت قدرت حکمت وحدانیت اور ا س کے علم کی پہچان حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ اس کی پیدا کی ہوئی یہ کائنات ہےاس میں موجود تما م چیزیں اپنے خالق کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اور ا س کے جلال و کبریائی کی مظہر ہیں اور ان میں تفکر اور تدبر کرنے سے خالق کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ قران مجید میں بکثرت مقامات پر اس کائنات میں موجود مختلف چیزوں جیسے انسانوں کی تخلیقزمین و اسمان کی بناوٹ زمین کی پیداوارہوا اور بارش سمندر میں کشتیوں کی روانی زبانوں اور رنگوں کا اختلاف وغیرہ بے شمار اشیاء میں غور وفکر کرنے کی دعوت اورترغیب دی گئی تاکہ انسان ا ن میں غورو فکر کے ذریعے اپنے حقیقی رب عزوجل کو پہچانے صرف اسی کی عبادت بجا لائے اور ا س کے تمام احکام پر عمل کرے۔ امام محمد غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اسمان اپنے ستاروں سورج چاند ان کی حرکت اور طلوع و غروب میں ان کی گردش کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔زمین کا مشاہدہ ا س کے پہاڑوں نہروں دریاوں حیواناتنباتات اور ان چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے اورجو اسمان اور زمین کے درمیان ہیں جیسے بادلبارشبرفگرج چمک ٹوٹنے والے ستارے اور تیز ہوائیں۔یہ وہ اجناس ہیں جو اسمانوں زمینوں اور ان کے درمیان دیکھی جاتی ہیں پھر ان میں سے ہر جنس کی کئی انواع ہیں ہر نوع کی کئی اقسام ہیں ہر قسم کی کئی شاخیں ہیں اور صفات ہیئت اور ظاہری و باطنی معانی کے اختلاف کی وجہ سے اس کی تقسیم کا سلسلہ کہیں رکتا نہیں۔زمین و اسمان کے جماداتنباتاتحیواناتفلک اور ستاروں میں سے ایک ذرہ بھی اللہ تعالی کے حرکت دئیے بغیر حرکت نہیں کر سکتا اور ان کی حرکت میں ایک حکمت ہو یا دو دس ہوں یا ہزار یہ سب اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہیں اور ا س کے جلال و کبریائی پر دلالت کرتی ہیں اور یہی اللہ تعالی کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں اور علامات ہیں۔(احیاء علوم الدین کتاب التفکر بیان کیفیۃ التفکر فی خلق اللہ تعالی ۵ / ۱۷۵) فی زمانہ مسلمان اللہ تعالی کی بنائی ہوئی اس کائنات میں غورو فکر کرنے اور ا س کے ذریعے اپنے رب تعالی کے کمال وجمال اور جلال کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے احکام کی بجا اوری کرنے سے انتہائی غفلت کاشکار ہیں اور ان کے علم کی حد صرف یہ رہ گئی ہے جب بھوک لگی تو کھانا کھا لیا جب پیاس لگی تو پانی پی لیا جب کام کاج سے تھک گئے تو سو کر ارام کر لیا جب شہوت نے بے تاب کیا تو حلال یا حرام ذریعے سے اس کی بے تابی کو دور کر لیا اور جب کسی پر غصہ ایا تو ا س سے جھگڑا کر کے غصے کو ٹھنڈا کر لیا الغرض ہر کوئی اپنے تن کی اسانی میں مست نظر ارہا ہے۔ امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اندھا وہ ہی ہے جو اللہ تعالی کی تمام صنعتوں کو دیکھے لیکن انہیں پیدا کرنے والے خالق کی عظمت سے مدہوش نہ ہو اوراس کے جلال و جمال پر عاشق نہ ہو۔ ایسا بے عقل انسان حیوانوں کی طرح ہے جو فطرت کے عجائبات اور اپنے جسم میں غور و فکر نہ کرےاللہ تعالی کی عطا کردہ عقل جو تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اسے ضائع کر دے اور ا س سے زیادہ علم نہ رکھے کہ جب بھوک لگے تو کھانا کھا لیاکسی پر غصہ ائے تو جھگڑا کر لیا ۔(کیمیائے سعادت رکن چہارم اصل ہفتم پیدا کردن تفکر در عجایب خلق خدای تعالی ۲ / ۹۱۰) اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔امین۔