Surah Al Imran Ayat 190 (3:190)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِﳐ 190
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلی میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔
Tafseer (Urdu)
{لایت لاولی الالباب: عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔}حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں میں حضرت میمونہ رضی ا للہ تعالی عنہا کے گھر رات میں ٹھہرا اورا س دن سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی ان کے ہاں ارام فرما تھے جب رات کا تہائی حصہ گزرا تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بیدار ہو ئے پھر اسمان کی طرف نظر ا ٹھا کران ایات مبارکہ کی تلاوت فرمائی۔(بخاری کتاب الادب باب رفع البصر الی السماء ۴ / ۱۵۹ الحدیث: ۶۲۱۵) ایک روایت میں ہے کہ تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا:’’اس پر افسوس ہے جویہ ایت پڑھے اوراس میں غور نہ کرے۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان کتاب الرقائق باب التوبۃ ۲ / ۸ الحدیث: ۶۱۹) سائنسی علوم حاصل کرنا کب باعث ثواب ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ علم جغرافیہ اور سائنس حاصل کرنا بھی ثواب ہے جبکہ اچھی نیت ہو جیسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت یااللہ تعالی کی عظمت کا علم حاصل کرنے کیلئے لیکن یہ شرط ہے کہ اسلامی عقائد کے خلاف نہ ہو۔ اس ایت مبارکہ میں اسمان و زمین کی تخلیق میں قدرت الہی کی نشانیوں کا فرمایا گیا ہے لہذا اسی کے پیش نظراس تفکر کی ایک جھلک اپ کے سامنے پیش کرتے ہیں : امام غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’قدرت الہی کی چھٹی نشانی اسمانوں ستاروں کی مملکت اور ان کے عجائب میں ہے کیونکہ جو کچھ زمین کے اندر اور روئے زمین پر ہے وہ سب کچھ ا س کے مقابلے میں کم ہے۔اسمان اور ستاروں کے عجائب میں تفکر کرنے کے لئے قران پاک میں تنبیہ فرمائی گئی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: و جعلنا السمآء سقفا محفوظا -و هم عن ایتها معرضون (انبیاء:۳۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا: لخلق السموت و الارض اكبر من خلق الناس و لكن اكثر الناس لا یعلمون(مومن۵۷) ترجمہ کنزالعرفان:بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے ۔ تو تمہیں حکم دیاگیاہے کہ زمین و اسمان کی تخلیق میں غوروفکر کرو ۔اسمان کی نیلاہٹ اور ستاروں کی ٹمٹماہٹ کو دیکھ لینا غور نہیں کہ یہ تو جانور بھی کر لیتے ہیں بلکہ مقام افسوس تو یہ ہے کہ تو اپنے عجائب اور اپنی ذات کو جو تیرے پاس ہیں اور وہ زمین و اسمان کے عجائب کی بہ نسبت ایک ذرہ بھی نہیں جس کو تو پہچان سکتا تو پھر زمین و اسمان کے عجائب کو کیسے پہچان سکے گا۔ تجھے بتدریج معرفت کے درجات پر ترقی کرنی چاہئے۔تجھے پہلے اپنی ذات کو پہچاننا چاہئے پھر زمین اور ا س کی تمام اشیاء کا عرفان حاصل کرنا چاہئےپھر ہوا بادل وغیرہ کے عجائب کی پہچان کرنی چاہئےپھر اسمان اور ستاروں کی معرفت حاصل کرنی چاہئے پھر کرسی اور عرش کو پہچاننا چاہئےپھر عالم اجسام سے نکل کر عالم ارواح کی سیر کرنی چاہئےپھر فرشتوں جنوں اور شیطانوں کو جاننا چاہئے پھر فرشتوں کے درجات اور مقامات کاعرفان حاصل کرنا چاہئےاسمان اور ستاروں کی گردش ان کی حرکت اور ان کے مشارق و مغارب کو دیکھنا چاہئے کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ستاروں کی کثرت پر غور و فکرکرنا چاہئے۔ انہیں کوئی بھی شمار نہیں کر سکتاان میں ہر ستارے کا رنگ مختلف ہےکچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کی شکل مختلف ہے مثلا کچھ بیل کی شکل کے ہیں اور کچھ بچھو کی شکل کے۔پھر انسان ان کی مختلف حرکات پر غور کرے کئی ایک ماہ میں سارے اسمان کو طے کر جاتے ہیں۔کچھ سال بھر لگاتے ہیں کئی انہیں طے کرنے میں بارہ سال لگاتے ہیں کئی ستارے تیس سالوں میں سارے اسمانوں کی گردش پوری کرتے ہیں اکثر ستارے 30,000 سال میں سارے اسمانوں کی مساحت طے کرتے ہیں۔ جب تو نے زمین کے کچھ عجائبات کو جان لیا تو یہ بھی سمجھ لے کہ عجائبات کا فرق ہر ایک چیز کی شکل کے اختلاف کے مطابق ہوتا ہے کیونکہ زمین اگرچہ اتنی وسیع ہے کہ کوئی ا س کی حد کو نہیں چھو سکتا مگر سورج زمین سے بڑا ہے۔اس سے معلوم ہو جانا چاہئے کہ افتاب کتنا دور ہے جو اتنا چھوٹا نظر اتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو اکہ وہ کتنی تیزی سے حرکت کرتا ہے کہ ادھی ساعت میں افتاب کا تمام گھیرا زمین سے نکلتا ہے ۔۔۔۔ یونہی اسمان پر ایک ستارہ ہے جو زمین سے سو گنا بڑا ہے۔وہ بلندی کی وجہ سے چھوٹا نظر اتا ہےایک ستارہ اگر اتنا بڑا ہے تو سارے اسمان کا اندازہ لگائیں کہ وہ کتنا بڑا ہو گا۔ان سب کی عظمت و بزرگی کے باو جو د تیری نگاہوں میں چھوٹاکر دیا گیا تاکہ تو اس سے مالک حقیقی کی عظمت وفضیلت سے اگاہی حاصل کر سکے۔(کیمیائے سعادت رکن چہارم اصل ہفتم ۲ / ۹۱۷-۹۱۸)